
نیویارک : اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں رواں سال زیتون کی فصل کے دوران غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حملے گزشتہ پانچ برسوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے اوچا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رواں سال دس ماہ میں ستر فلسطینی قصبوں اور دیہات میں ایک سو چھبیس حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں چار ہزار سے زائد زیتون کے درخت اور پودے تباہ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق براہِ راست فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے ساٹھ واقعات پیش آئے۔ جن میں کم از کم سترہ فلسطینی زخمی اور انیس گاڑیاں تباہ ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے کئی علاقوں میں فلسطینی کسانوں کو اپنی زمینوں تک پہنچنے سے روک دیا ہے۔ سرکاری خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق نابلس کے قریب بورین گاؤں میں آبادکاروں نے زیتون توڑنے والے فلسطینیوں پر حملہ کیا اور ان کی فصل زمین پر بکھیر دی۔ فلسطینی کمیشن کے مطابق اس موسم کے دوران اب تک اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے 259 حملے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں.


































