
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں کہا ہےکہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں۔سپریم کورٹ حکم دے ہم ایکشن لیں گے۔ وزیراعظم سانحہ اے پی ایس کیس میں عدالت عظمیٰ کے طلب کرنے پر پیش ہوئے۔وزیراعظم نے عدالت کو بتایا کہ وہ واقعہ کے دن ہی پشاور گئے تھے اسپتال جا کر زخمیوں سے بھی ملے ۔ واقعہ کے وقت ماں باپ سکتے میں تھے۔صوبائی حکومت جو بھی مداوا کرسکتی تھی کیا، والدین کہتے ہیں ہمیں حکومت سے امداد نہیں چاہیے، سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا، دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتی۔ سپریم کورٹ نے 20 اکتوبر کے حکم نامے پر عملدرآمد کی ہدایت کی جس پر وزیراعظم نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ وزیراعظم ہیں، جواب آپ کے پاس ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے 4 ہفتوں میں سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں کے تعین کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم سے اقدامات کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آئین پاکستان میں عوام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ریاست نے بچوں کے والدین کو انصاف دلانے کے لیے کیا کیا؟ اب تو آپ اقتدار میں ہیں، مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے آپ نے کیا کیا؟ ہمیں آپ کے پالیسی فیصلوں سے کوئی سروکار نہیں، ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی مجرموں کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا؟۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا نائن الیون سے کوئی تعلق نہیں تھا، ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ دوست کون اور دشمن کون، میں نے اس وقت کہا تھا یہ امریکا کی جنگ ہے، ہمیں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، 80 ہزار لوگ دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہوئے۔


































