Sat Oct 24, 2026

پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور اردن، گرجا گھر میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 20 زخمی پاکستان اور سعودیہ نے مکہ معاہدے کی توثیق کے مراحل مکمل کرلیے، دفترخارجہ یمن پر سعودی اور اتحادی فورسز کے حملوں میں 9 شہری جاں بحق امریکا نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر پھونک دیے، عراقچی الخلیل میں چیک پوسٹ پر حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز ایران پر حملہ ہوا تو انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی لائنیں تباہ کردیں گے، رحیم صفوی یورپ میں مظاہروں میں شدت: فرانس میں مرکزی طلبہ یونین کی ہفتہ کو احتجاجی ریلیوں کی کال غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید یمن کے حوثی باغی نہیں، پاکستان جنگ کا حصہ بننے سے گریز کرے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس سعودی اور عراقی وزراء خارجہ کا رابطہ، سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال وفاقی حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا کے مسائل حل کرے گی، وزیراعظم مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوج کی تعداد میں خاموشی سے کمی دمام ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک، 8 زخمی

روزانہ کی خبریں

امریکا نے یوکرین اور روس میں امن معاہدہ نہیں ہونے دیا

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال فروری میں تنازع شروع ہونے کے کچھ ہی عرصہ بعد روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہونے والا تھا لیکن مغرب نے ایسا نہیں ہونے دیا اور بات چیت میں رکاوٹ ڈالی۔ ایک اسرائیلی میڈیا ادارے کو پانچ گھنٹے طویل انٹرویو کے دوران نفتالی بینیٹ نے کہا کہ انہوں نے بحیثیت ایک ثالث کوشش کی کہ ماسکو اور کیف کے درمیان جنگ بندی ہو جائے لیکن یہ ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال سے مغربی ممالک نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب شدید جارحانہ رویہ اختیار کیا اور شاید یہی ٹھیک تھا۔ انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امریکا اور اس کے اتحادیوں نے امن ہونے نہیں دیا اور اس کا راستہ روکا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال یہ تنازع شروع ہوا تو مغربی ممالک کے رہنما اس معاملے سے نمٹنے کے حوالے سے متحد نہیں تھے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سخت رد عمل چاہتے تھے، جرمن چانسلر اولاف اور فرانسیسی صدر میکرون کی حکمت عملی قدرے منطقی تھی جبکہ امریکی صدر بائیڈن کا رویہ سخت ہونے کے ساتھ منطقی بھی تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular