Mon Oct 26, 2026

ایران سے روسی سفارت کاروں اور جوہری ماہرین کے انخلا کی خبریں مسترد نئی جنگ کے اثرات تباہ کن ہوں گے، خطے کا جغرافیہ تبدیل ہو جائے گا، جنرل محبی امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی حمایت اخلاقی فریضہ ہے، اسلامک ریزسٹنس اِن عراق ولی امر مسلمین کی بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور جنگی نقصانات کے معاوضے کے حصول کی ہدایت اسرائیل کیلئے امریکی امداد کے خاتمے کا وقت آنے والا ہے، نیتن یاہو 30 جون تک تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لانے کا ہدف ہے، عراقی وزیراعظم امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج پاکستان، برطانیہ، فرانس سمیت 8 ملکوں کا مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے سفارتی حل پر زور اردن، گرجا گھر میں فائرنگ سے 7 افراد ہلاک، 20 زخمی پاکستان اور سعودیہ نے مکہ معاہدے کی توثیق کے مراحل مکمل کرلیے، دفترخارجہ یمن پر سعودی اور اتحادی فورسز کے حملوں میں 9 شہری جاں بحق امریکا نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام پر اپنے ٹیکس دہندگان کے 11 ارب ڈالر پھونک دیے، عراقچی الخلیل میں چیک پوسٹ پر حملے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 زخمی اربوں ڈالر خرچ ہوگئے جنگ سے امریکا کو کیا ملا؟ ، امریکی سینیٹرز ایران پر حملہ ہوا تو انٹرنیٹ اور مواصلاتی نظام کی لائنیں تباہ کردیں گے، رحیم صفوی

روزانہ کی خبریں

افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا، رپورٹ

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا ان کیمرہ اجلاس چیئرمین مشاہد حسین سید کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت دفاع کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر، بنوں سی ٹی ڈی مرکز میں سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سمیت پاک افغان بارڈر پر ہونے والے حالیہ واقعات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ وزارت دفاع کے حکام نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ جب سے افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی ہے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی قیادت وہاں مقیم تھی اور یکساں سوچ ہونے کی وجہ سے افغان حکومت ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے رہی ہے۔حکام نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ افغان حکومت کے ذریعے مذاکرات کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے بہت سے مطالبات غیرآئینی اور غیرقانونی تھے جنھیں ماننا ریاست کے مفاد میں نہیں تھا۔ حکام نے بتایا کہ گذشتہ ایک ماہ سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ کارروائیاں ہونے سے پہلے ناکام بنائی گئی ہیں۔ اس طرح بعض واقعات کے ملزمان کو گرفتار یا ہلاک بھی کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

Most Popular