
اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان اس وقت معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے، عالمی مالی امداد کے نہ ہونے سے تنخواہوں کی ادائیگی تک میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ عام آدمی بدترین قحط کے شدید اثرات کا شکار اور اس سے متاثر ہے، وزارتِ خارجہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ رابطہ نہ صرف بحال رہنا چاہئے بلکہ کئی وجوہات کی بناء پر اس میں اضافہ ہونا چاہئے، تاکہ پھر سے یہ ملک خانہ جنگی کی نذر نہ ہو، کوئی بھی دوبارہ ایسا ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا، معاشی انحاط وانہدام کا بھی کوئی خواہاں نہیں، جس سے عدم استحکام بڑھے گا۔ہرکوئی یہ چاہتا ہےکہ افغانستان کےاندر فعال دہشت گرد عناصر سے مؤثراندازسے نمٹاجائے اور ہم سب کی خواہش ہے کہ مہاجرین کے ایک نئے بحران سے بچا جائے، افغانستان سے متعلق ہم سب کی تشویش وفکر مندی مشترک ہے، جب کہ وہاں امن واستحکام ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہے، ان سب کا حصول ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اس صورتحال میں ٹرائیکا پلَس نے نمایاں اہمیت حاصل کرلی ہے اور اس کاکلیدی کردار ہے جو اسے ادا کرنا ہے۔ ہم پُراعتماد ہیں کہ نئی افغان حکومت سے امور کار، امن واستحکام کے فروغ ، پائیدار معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر سرگرم دہشت گردوں کے لئے گنجائش مسدود ہوتی چلی جائے گی۔


































