
لاہور : وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ عام طور پرانسان کیلئے مال و دولت غرور اور تکبر کا موجب بنتا ہے لیکن یہی مال انسان کو نہ بیماری سے بچا سکتا ہے، نہ موت سے۔ قرآن مجید میں سرمایہ کی بنا پر غرور کرنیوالے قارون کا واقعہ عبرت حاصل کرنے کیلئے ذکر کیا گیا ہے جس کا خیال تھا کہ اس نے یہ دولت اپنے علم و کوشش سے کمائی ہے۔ دنیا پرستوں نے اس کے مال و دولت پر حسرت کی کہ کاش ہمارے پاس بھی قارون جتنا مال ہوتا لیکن اہلِ تقویٰ نے اس فکر کی نفی کی۔ جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قرآنی تعلیمات کی رُو سے اِسلامی حکمران کا رہن، سہن اور طرزِ زندگی عام آدمی کی سطح پر ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نعماتِ الہٰی کی قدر کرنی چاہئے۔ کسی بھی وقت چِھن سکتی ہیں۔ قدرتی آفات کے نتیجہ میں اچانک سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ نعمات سے آخرت سنوارنے کی کوشش کی جائے کیونکہ مرنے کے بعد مال سے فقط کفن ملے گا، اولاد اور دوست غسل کے بعد دفن کی حد تک ساتھ دیں گے۔ جو چیز قبر اور آخرت میں کام آئے گی وہ اچھائیاں اور نیک کام ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کی کمزوری اور بے بسی کا یہ عالّم ہے کہ پانی کے ایک گھونٹ کے گلے میں اٹکنے سے موت واقع ہو سکتی ہے اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ مرنے کے بعد اسے ہاتھ لگانے سے غسل واجب ہو جاتا ہے جبکہ مردہ جانور کو ہاتھ لگانے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔


































