
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ آئینی ترامیم کے لیے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو توڑنے کے لیے 20، 20 کروڑ روپے اور وزراتوں کی آفر کی جا رہی ہے۔ پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ فاشسٹ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں پر متعدد مقامات بنائے، آج اسلام آباد میں اسپیل کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ میں ہو رہا ہے لیکن ہم مقدمات کے باعث نہیں جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی حکومت جس کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں اور پارلیمنٹ میں عددی برتری بھی لیکن آئینی ترامیم کی جا رہی ہے، پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ آئینی ترامیم کے لیے ارکان اسمبلی کو خریدا جا رہا ہے اور ہمارے ارکان اسمبلی کو 20، 20 کروڑ روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماء عمر ایوب نے کہا کہ بانی چیئرمین کی صحت کے حوالے سے اطلاعات اچھی نہیں آرہیں جبکہ ان کی بہنوں کو ملنے نہیں دیا جا رہا ہے، 14 اکتوبر تک پنجاب میں احتجاج ہے اس کے بعد پورا ملک سڑکوں پر ہوگا۔


































