
تحریر: امین حطیط (مشرق وسطی سے متعلق اسٹریٹجک اور فوجی امور کے تجزیہ کار)
حال ہی میں امریکہ نے ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل دیگر اسلامی ممالک اور گروہوں سے منسلک 21 ویب سائٹس کو ممنوعہ قرار دے کر ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکہ کے اس اقدام کو اسلامی مزاحمتی بلاک خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جاری امریکی اقدامات کا نیا سلسلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ نے یہ اقدام مشرق وسطی میں فوجی موجودگی کم کرنے کے فیصلے کے بعد انجام دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اسلامی مزاحمتی بلاک خاص طور پر ایران کے خلاف ایک نئی نوعیت کی جنگ کا آغاز کر دیا ہے جس سے مقابلہ کرنے کیلئے اعلی سطح کی آگاہی، ہوشیاری اور تیاری کی ضرورت ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت انجام پایا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان انتہائی مشکل مذاکرات بھی جاری ہیں۔
ایران سے ویانا میں جاری مذاکرات میں امریکہ خود کو ایران کی عائد کردہ شرائط قبول کرنے پر مجبور محسوس کر رہا ہے اور انہیں قبول کرنے کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ لہذا اس اہم اور بڑی شکست کا بدلہ لینے اور کسی حد تک اس کا ازالہ کرنے کیلئے امریکہ نے میڈیا کے شعبے میں ایران پر چوٹ لگانے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح امریکہ اس اقدام کے ذریعے عالمی رائے عامہ خاص طور پر امریکی عوام کی توجہ ویانا میں ایران کے مقابلے میں ہونے والی سفارتی شکست سے ہٹانا چاہتا ہے۔ ویانا میں ایران کے مقابلے میں امریکہ کی سفارتی شکست اور ناکامی گذشتہ چند سالوں سے خطے میں امریکہ کی ان ناکامیوں پر مبنی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو یمن سے لے کر عراق اور شام تک امریکہ کو حاصل ہوئی ہیں۔
اسلامی مزاحمتی بلاک سے منسلک ان ویب سائٹس کی بندش کا اصل مقصد اسلامی مزاحمت کی آواز کو دبانا ہے۔ امریکہ یوں اسلامی مزاحمتی بلاک سے انتقام لینے کے درپے ہے۔ گذشتہ چند عشروں کے دوران امریکہ کو خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے سامنے متعدد عبرتناک شکست برداشت کرنی پڑی ہیں۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کا یہ اقدام بھی شکست اور ناکامی کا شکار ہو گا۔ اس کی بنیادی وجہ آج کے زمانے میں سوشل میڈیا کا گہرا اثرورسوخ اور وسعت ہے۔ سوشل میڈیا آفیشل ویب سائٹس سے کہیں زیادہ موثر اور تیز ہے۔ چند ویب سائٹس کو بند کر کے اسلامی مزاحمتی بلاک کی آواز کو دبانا ناممکن ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے اسلامی مزاحمتی بلاک سے متعلق کہیں زیادہ حقائق امریکی عوام اور دیگر ممالک کے عوام تک تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف اس اقدام نے امریکہ کا اصل چہرہ بھی واضح کر دیا ہے۔ امریکہ سمیت مغربی ممالک خود کو دنیا میں جمہوری اقدار خاص طور پر آزادی اظہار کا چیمپیئن ظاہر کرتے ہیں اور جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ اسلامی مزاحمتی بلاک سے منسلک 21 ویب سائٹس پر پابندی نے امریکہ کی منافقت اور جھوٹ کو فاش کر دیا ہے۔ امریکہ کا منافقانہ چہرہ اس وقت مزید واضح ہو گیا جب موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اس حقیقت کا اعتراف کیا تھا کہ امریکی جمہوریت شدید تزلزل کا شکار ہو چکی ہے۔ آج دنیا والے بڑی تعداد میں ایسے حقائق کا مشاہدہ کر رہے ہیں جن سے مغربی حکمرانوں خاص طور پر امریکی حکمرانوں کی باتوں اور عمل میں تضاد کھل کر سامنے آ رہا ہے۔
دنیا میں ہر ایسا میڈیا جو امریکہ کے اصل حقائق اور دنیا میں اور امریکہ کے اندر امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ظالمانہ اور مجرمانہ اقدامات کو عیاں کرتا ہے، اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکی حکمران جو بات کرتے ہیں عمل کے وقت اس کے برعکس عمل کرتے ہیں۔ ایک طرف جمہوری اقدار کے نعرے لگاتے ہیں جبکہ دوسری طرف مشرق وسطی میں آمرانہ ترین سلطنتوں اور بادشاہتوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ایک طرف آزادی کے نعرے لگاتے ہیں جبکہ دوسری طرف دنیا کے اکثر ممالک میں بے جا فوجی اور سیاسی مداخلت کرتے ہیں۔ ایک طرف قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی دھجیاں اڑاتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایران کے خلاف شکست اور ناکامی امریکہ کا مقدر بن چکی ہے۔ حال ہی میں ایران میں صدارتی الیکشن سے پہلے امریکہ نے 250 ٹی وی چینلز کا عظیم نیٹ ورک بنا کر ایرانی عوام کو اس الیکشن میں شرکت نہ کرنے پر اکسانے کی کوشش کی۔ لیکن بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باوجود امریکہ کو شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کرونا وائرس اور کووڈ وبا کے باوجود ایران میں صدارتی الیکشن کا ٹرن آوٹ 49 فیصد کے قریب تھا جو مشابہہ حالات میں ایک ورلڈ ریکارڈ سے کم نہیں ہے۔ دوسری طرف اسلامی مزاحمتی بلاک بھی امریکہ کی جانب سے انجام پانے والے ہر حربے اور ہتھکنڈے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلامی دنیا میں بسنے والے مسلمان بیدار ہو چکے ہیں اور شیطان بزرگ امریکہ کے عزائم کو اچھی طرح بھانپ چکے ہیں۔ لہذا اس بار بھی شکست امریکہ کا مقدر بن جائے گی۔


































