
تہران : ولی امرمسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ مسلم اقوام حالیہ ڈیڑھ سو سال میں جارح مغربی طاقتوں کی طمع، دخل اندازی اور شرانگیزی کی زد پر رہی ہیں، مسلم امہ کو چاہئے کہ ماضی کی بھرپائی کرے اور اس زور زبردستی کا مقابلہ کرے حج کے پیغام میں ولی امرمسلمین نے کہا کہ ہم اسلام کے پیروکار کہ جن کے پاس آج بہت بڑی آبادی، وسیع علاقے، بے پناہ قدرتی وسائل، زندہ و بیدار قومیں ہیں، اپنے مہیا وسائل و امکانات کی مدد سے مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں پچھلے ڈیڑھ سو سال میں مسلم اقوام نے اپنے ملکوں اور حکومتوں کی سرنوشت کے سلسلے میں کوئی کردار نہیں نبھایا بلکہ چند مثالوں کو چھوڑ کر ہمیشہ جارح مغربی حکومتوں کی پالیسیوں کے حساب سے چلتی رہیں اور ان کے حرص، دخل اندازی اور شرانگیزی کا نشانہ بنتی رہیں۔ آج بہت سارے ممالک کی علمی پسماندگی اور سیاسی انحصار اسی بے عملی اور بے لیاقتی کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے حواری مزاحمت کے نام سے بدکتے ہیں اور اسلامی مزاحمتی محاذ سے گوناگوں طریقوں سے دشمنی نکالنے پر کمربستہ ہیں۔ علاقے کی بعض حکومتوں کا ان کے ساتھ لگ جانا بھی ایک تلخ حقیقت ہے جس کا مقصد شرانگیزی کے سلسلے کو طول دینا ہے۔


































