Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

ماہِ رمضان میں روزے کیوں؟

رضوان علی، کلاس نہم

دوستو! ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان پر روزے کی عبادت کو فرض کیا گیا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے کہ:
(ترجمہ) اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں اسی طرح جیسے (روزے ) تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض تھے تاکہ شاید تم (لوگ) پرہیزگار بن جاﺅ۔
آپ سب یقینا اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اذان فجر سے لے کر مغرب کی اذان کے بعد تک کھانے پینے سے پرہیز کرنے کو روزہ کہا جاتا ہے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کاتقرب اور خوشنودی حاصل کرنا ہوتا ہے روزہ ایک اہم اسلامی عبادت ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق اسی روزہ سے ہی انسان خود کو متقی و پرہیز گار بنا سکتا ہے اس ضمن میں جو بات بے حد توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ روزہ محض کھانے پینے سے پرہیز کا نام نہیں بلکہ روزہ حقیقت میں تزکیہ نفس، حصول تقویٰ اور معاشرے کی اصلاح کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو روزہ کی عبادت کے فرض کئے جانے کے بارے میں بتانے کے بعد روزے کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ:تاکہ شاید تم پرہیزگار بن جاﺅ۔
اس آیہ مبارکہ میں لفظ شاید کا استعمال اللہ تعالیٰ کے علم کی کمزوری کی بناءپر نہیں بلکہ یہ لفظ انسانوں کی اپنی کمزوری کی وجہ سے استعمال ہوا ہے اس لئے کہ تقویٰ جو روزے کا نتیجہ ہے اسے اسی صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے جب روزے کی عبادت کو اس کے تمام تر شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اور اس بارے میں اسلام کی یہ تعلیم بالکل واضح اور روشن ہے کہ :
جب ہم روزہ رکھیں تو ہمارے کان ، آنکھ، بال اور جسم کی کھال تک کو روزہ دار ہونا چاہیے نیز ہمارے روزے کا دن اس دن کی مانند ہر گز نہ ہو جس میں ہم روزہ نہیں رکھتے۔
اسی طرح روزے کے مقاصد میں سے ایک اور مقصد انسانی معاشرے کے لئے درس مساوات کو عام کرنا ہے روایات سے پتا چلتا ہے کہ جب ہشام بن حکم نے امام جعفر صادق ؑ سے روزے کے سبب کے بارے میں سوال کیا تو امام ؑ نے جواب میں فرمایا تھا کہ:
روزہ اس لئے واجب قرار دیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے فقیر اور غنی کے درمیان مساوات قائم ہو اس لئے کہ جب غنی اور دولت مند بھوک کا مزہ چکھ لے گا تو وہ فقیر کو اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرے گا۔
لہذا اگر ہم روزے کے صرف انہی دو اہم مقاصد کو پیش نظر رکھیں تب بھی ہم یقینا یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ رمضان المبارک کا مہینہ درحقیقت وہ سالانہ کیمپ ہے جو انسان کے لئے تزکیہ نفس کے ذریعے تقویٰ کے حصول اور معاشرے کی اجتماعی اصلاح کی راہ ہموار کرتا ہے اس لئے کہ ایک مہینے تک مسلسل صرف اور صرف اللہ تعالیٰ خوشنودی کی خاطر بعض جائز امور کو ترک کرنے سے انسان میں گناہوں سے اجتناب (دوری) کی مہارت پیدا ہوتی ہے نیز اس میں مشکلات و مصائب کو برداشت کرنے کے لئے قوت صبر سے استفادہ(فائدہ حاصل کرنے) کی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے۔
دوسرے الفاظ میں رمضان المبارک کا مہینہ خدائی اہداف کے حصول میں پیش آنے والی مشکلات و تکالیف کے سامنے ثابت قدمی کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور جس طرح دیگر اسلامی عبادات انسان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی طرح روزہ بھی انسانی فکر و روح کی تعمیر میں کردار ادا کرتا ہے۔
لہٰذا ہمیں یقین ہے کہ آپ دل کی گہرائیوں سے روزہ کے اہم اور بنیادی مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے دنیاوی بہترین مستقبل کے ساتھ ساتھ اپنی حیات اخروی کو سنوارنے اور اس کے لئے زاد راہ مہیا کرنے کے لئے ماہ مبارک کو بہترین موقع خیال کرتے ہوئے اس بار قرآن کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادات کی بجا آوری کو اپنا اولین فریضہ قرار دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس مبارک مہینے کے فیوض و برکات سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔ امین یا رب العالمین۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular