Mon Oct 12, 2026

پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

روزانہ کی خبریں

سردار قاسم سلیمانی، اسلامی تعلیمات کا ایک اور معجزہ(1)

تحریر: ثاقب اکبر

سردار قاسم سلیمانی کی شخصیت اگرچہ کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اتر چکی ہے اور انھیں بجا طور پر ”سردار دلہا“ یعنی دلوں کا سردار کہا جاتا ہے، تاہم ہماری رائے یہ ہے کہ ابھی تک دنیا سردار قاسم سلیمانی کو دریافت کرنے کے مرحلے میں ہے۔ ایک عظیم عبقری اور روحانی شخصیت کے پرت رفتہ رفتہ ہی کھلتے ہیں اور پھر قرنوں پر پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ قاسم سلیمانی بھی ایسی ہی ایک شخصیت ہیں۔ شہید آیت اللہ سیدباقر الصدرؒ نے امام خمینیؒ کے بارے میں فرمایا تھا: ”امام خمینی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ علیؑ ایک شخص نہ تھے، جو تاریخ میں آئے اور چلے گئے بلکہ ایک شخصیت تھے جو آج بھی زندہ ہے۔“ دنیا میں جب بھی بڑی شخصیات ظہور کرتی ہیں تو ان کے دمِ مسیحائی سے اور بھی بہت سے بڑے انسان ظاہر ہوتے ہیں۔ امام خمینیؒ کے ساتھ اور ان کی تحریک کے نتیجے میں جس درجے کی بڑی شخصیات سامنے آئی ہیں، وہ عصر حاضر میں ہمارے اس دعوے کی دلیل ہیں۔ یہ سلسلہ ان کی قیادت میں آنے والے انقلاب کی پیش رفت کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
ہم ماضی میں بھی ایسی بہت سی مثالیں پیش کرسکتے ہیں، تاہم اسلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے بالآخر وعدہ الٰہی کے مطابق پوری دنیا پر غالب آکر رہنا ہے، اس لیے بھی اس کی جامع تعلیمات کے نتائج مختلف صدیوں میں نکلتے رہے ہیں اور عالمی سطح کی بڑی شخصیات سامنے آتی رہی ہیں۔ آپ کے اہل بیت اطہارؑ اور عظیم المرتبت صحابہؓ کے بعد بھی اسلامی تاریخ میں نوابغ کی کمی نہیں رہی۔ البتہ جامع شخصیات کبھی کبھی سامنے آتی ہیں۔ سردار قاسم سلیمانی بہت جہت دار روشن دماغ، عمیق روح، عصری علوم سے آگاہ اور انسان دوست شخصیت ہونے کے اعتبار سے رفتہ رفتہ معرض شناخت میں آرہے ہیں۔ جہاد، استقامت، شہامت، منصوبہ بندی اور دشمن شناسی میں وہ پوری تاریخ کے کم نظیر جرنیلوں میں شمار کیے جاسکتے ہیں۔ شوق شہادت ان کے پورے وجود سے آشکار تھا، ان کی زندگی کے واقعات سے ایسا لگتا ہے کہ ان کا دل اس شوق سے کبھی بھی خالی نہیں رہا اور اس شوق کے بغیر وہ کسی معرکے میں نہیں اترے۔
شاید ان افراد کو شمار نہیں کیا جاسکتا، جن سے انھوں نے اپنی اس تمنا کے پورا ہو جانے کے لیے ”التماس دعا“ نہ کہا ہو۔ انھوں نے کسی بڑی ہستی کی ضریح کو بوسہ دیتے ہوئے اپنی اس تمنا کے اظہار میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ آخری دنوں میں تو ایسا لگتا تھا کہ وہ یہی آرزو لیے کبھی کسی بڑی شخصیت کے پاس جاتے ہیں اور دعا کی التجا کرتے ہیں اور کبھی کسی دربار پر حاضر ہو کر مقام شہادت تک پہنچنے کے لیے فریاد کناں ہوتے ہیں۔ یہ آرزو اتنی پختہ، گہری، سچی اور عظیم تو تھی کہ آپ کو جو شہادت کا درجہئ رفیعہ حاصل ہوا، وہ اپنی مثال آپ بن گیا۔ دنیا کے سب سے بڑے شیطان نے آپ کے قتل کا حکم صادر کیا اور پھر اس کا اعلان بھی کیا۔ چھوٹے چھوٹے شیطانوں کا کسی مجاہد کو قتل کرنے کا فیصلہ تو ہوتا ہی رہتا ہے، لیکن مجاہد کی عظمت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دور حاضر کی سب سے بڑی طاغوتی قوت کا طاقتور ترین آدمی یہ اعلان کرتا ہے کہ قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم میں نے دیا تھا۔
بعید نہیں کہ وہ جو وائٹ ہاﺅس سے چمٹا رہنا چاہتا ہے اور اس سے باہر نہ آنے کے لیے سو سو حیلے کرتا پھرتا ہے، اس پر اسلام کے اسی بطل جلیل کی شہادت نے خوف طاری کر رکھا ہو، جس کا وہ اظہار نہیں کرپا رہا اور ابھی وائٹ ہاﺅس میں مزید پناہ گزین رہنا چاہتا ہے اور امریکی صدر کو حاصل اختیارات اور سکیورٹی اپنی حفاظت کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ اگر ہم تک ایران کے روحانی پیشوا جنھیں بجا طور پر ”مرشد دلہا“ کہا جاسکتا ہے کا خطبہ پہنچ گیا ہے، جو انھوں نے ”سردار دلہا“ کی پہلی برسی کی مناسبت سے ایک پروگرام میں دیا ہے تو ہم سے پہلے یقیناً وائٹ ہاﺅس کے پناہ گزین تک پہنچ چکا ہوگا، جس میں انھوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ جس شخص نے سردار قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیا ہے، اس سے بدلہ لیا جائے گا۔
اس بدلے کا آغاز تو شہادت سے چند روز بعد ہی ہوگیا، تھا تاہم امام خامنہ ای نے بات واضح کر دی ہے کہ اگرچہ خطے سے امریکہ کو نکالنا بھی شہید قاسم سلیمانی کے انتقام کا حصہ ہے، تاہم قتل کا حکم دینے والے سے بدلہ لینا بھی ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید دنیا میں اگرچہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے کہ دو ملکوں کے اہم حاضر فوجی افسروں کو کسی اور ملک کا صدر حکم دے کر قتل کروا دے، لیکن یہ واقعہ بڑے بڑے عالمی واقعات کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے اور ابھی بنے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ 3 جنوری 2019ءکی سحری کو ہونے والا واقعہ ایک نئے عالمی انقلاب کی بنیاد بنتا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے چند روز بعد راقم نے ملی یکجہتی کونسل کے ایک وفد کے ہمراہ ایران کا دور ہ کیا تھا، اس موقع پر راقم نے اپنے جو تاثرات رقم کیے تھے، ان میں سے چند جملوں کا ذکر یہاں مفید معلوم ہوتا ہے:
”ان دنوں ملی یکجہتی کونسل کے وفد کے ساتھ ایران میں ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ گویا اک نئے انقلاب کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس کی بنیادیں تو وہی ہیں لیکن تیور کچھ بدلے ہوئے ہیں۔ رفتار کچھ تیز ہوگئی ہے۔ اثرات کا پھیلاﺅ وسعت اختیار کر رہا ہے۔ چشمہ ¿ زمزم ہے جو امام خمینیؒ کے دور میں پھوٹا اور اب اس کا آب مصفیٰ زیادہ قوت اور زیادہ دباﺅ سے نکل رہا ہے۔ وفد جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں آیا ہے۔ اس میں پاکستان کے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی موجود ہے۔ شیعہ ہیں، سنی (بریلوی) ہیں، سنی دیوبندی ہیں، اہل حدیث ہیں لیکن لگتا نہیں کہ مختلف ہیں۔ سب ایک ہیں اور ایک مکتب فکر اسلامی و انقلابی رکھتے ہیں اور وہ ہے نبی اعظم کے نام کی دنیا بھر میں سربلندی اور قرآن و رسول کے دشمنوں کے مقابل مل کر جدوجہد کرنے کا عزم۔ نیا انقلاب جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی مہندس اور ان کے ساتھیوں کی شہادت سے شروع ہے۔ پہلا موقع ہے کہ کسی کے قتل ناحق کی ذمہ داری بلاواسطہ امریکی صدر نے قبول کی ہے۔ طاغوتی قوتوں کا سرغنہ جب خود کسی کے قتل کو اپنے ذمے لے تو پھر مقتول کی عظمت کا اندازہ تو لگایا ہی جاسکتا ہے۔
اگر عوامی ردعمل جو عراق، ایران اور دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے، رونما نہ ہوتا تو "اندازہ” کا لفظ مناسب ہوتا، لیکن امریکی استبداد اور ظلم کے خلاف عوامی سیلاب تو چشم فلک نے دیکھا اور ساری دنیا کو اس کی خبروں سے بھر دیا۔ ہمارے ساتھیوں میں اسلامی تحریک کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، جمعیت علماءپاکستان کے سیکرٹری جنرل پیر سید محمد صفدر گیلانی، مجلس وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی، ہدیٰ الہادی کے نائب رہبر جناب رضیت باللہ، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے چیف آرگنائزر مولانا جناب مقصود احمد سلفی اور جمعیت علماءاسلام (سینیئر) کے جناب طاہر حبیب بھی ہیں۔ سب بدلی ہوئی دنیا کا تماشا کر رہے ہیں۔ حیرت خیز اور تعجب انگیز مناظر ہیں کہ آنکھوں میں ٹھہرتے جا رہے ہیں۔ انقلابی قائدین کی باتیں ہیں کہ حقائق کے پرت کھول رہی ہیں۔ قوم کا عزم ہے کہ سیل رواں کی شکل اختیار کرتے جا رہا ہے۔“
اس کے بعد سے تاریخ نسبتاً تیز رفتاری سے آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زندہ قاسم سلیمانی جسے ان کی زندگی میں ہی ”شہید زندہ“ کا خطاب دے دیا گیا تھا، شہید ہو کر دشمنوں کے لیے زیادہ خوف کا باعث بن گئے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ان کا نام بھی فیس بک پر گوارا نہیں کیا جاتا۔ میں ایسے سینکڑوں افراد کو جانتا ہوں، جن کا فیس بک اکاﺅنٹ یا ختم کر دیا گیا یا کچھ عرصہ کے لیے اس میں کوئی پوسٹ لگانے پر پابندی عائد کر دی گئی، صرف اس لیے کہ انھوں نے شہید قاسم سلیمانی کے لیے اپنی محبت کا کسی انداز سے اظہار کیا تھا۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ شہید ہو کر بھی بہت طاقتور ہیں اور دشمنوں کی نیند اڑا دینے کے لیے موجود ہیں۔ ایک سال کے اندر ان کے لیے جتنے مقالات لکھے گئے، جتنے انٹرویوز نشر ہوئے، جتنے پروگرام منعقد ہوئے، جتنے سیمینار کیے گئے اور جتنی کتابیں لکھی گئیں، وہ سب حیرت میں ڈال دینے کے لیے کافی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے اور جوں جوں ان کی پہلی برسی نزدیک آرہی ہے، پوری دنیا میں استعمار شکن جذبے زیادہ پرورش پاتے ہوئے دکھائے دے رہے ہیں۔ حق کے ساتھ وابستگی ولولوں کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ ایک عالمی انقلاب کی دستک پہلے سے زیادہ افراد تک پہنچ رہی ہے۔
شہید قاسم سلیمانی کو ایک تجربہ حاصل ہوا جسے انھوں نے عالم گیر کر دیا، وہ تجربہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کا تھا۔ وہ 11 مارچ 1957ءکو ایران کے شہر کرمان ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ کرمان میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے آب رسانی کے ادارے میں ملازمت اختیار کرلی۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ فروری 1979ءمیں جب وہ ابھی 22 برس کے ہونے کو تھے کہ امام خمینی کی قیادت میں ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوگیا۔ یہ انقلاب بیسویں صدی کی آخری چوتھائی کا بہت بڑا واقعہ تھا۔ مغربی ایشیاءاور خاص طور پر مڈل ایسٹ میں امریکہ کے سب سے اہم اتحادی شاہ ایران کا تختہ الٹ گیا تھا اور دینی بنیاد پر دینی قیادت میں ایک پرجوش عوامی انقلاب رونما ہوچکا تھا۔ اس واقعے نے علاقے کی رجعت پسند اور استعماری سرپرستی میں قائم حکومتوں کو لرزہ براندام کر دیا۔ یہ انقلاب دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ورلڈ آرڈر کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔ اسے فوری طور پر ختم کرنے یا منحرف کرنے کے لیے تمام تر تدابیر پر غور و خوض کیا گیا اور ایک ایک کرکے انھیں بروئے کار لایا گیا۔ داخلی اور خارجی سطح پر سازشوں کا تانا بانا بنا جا چکا تھا۔ فیصلہ کیا گیا کہ عراق میں حکمران صدام کی حکومت کو کیل کانٹے سے لیس کیا جائے اور تھپکی دے کر ایران پر بھرپور فوجی حملہ کروا دیا جائے۔
ادھر انقلاب نیا نیا تھا۔ ایران کی فوج شاہی دور کی قائم کردہ تھی۔ اس کی قیادت شاہ ایران کی وفادار تھی۔ انقلاب کی کامیابی سے صرف شاہ کو شکست نہ ہوئی تھی، یہ فوج بھی شکست کھا چکی تھی۔ اس کے کئی ایک جرنیل اور بڑے بڑے افسر ایرانی عوام کے قتل عام کے مجرم قرار پا چکے تھے۔ فوج کی صفوں میں ابھی تشویش، اضطراب اور سراسیمگی کا عالم تھا۔ امام خمینی کی چشم بصیرت نے عوامی انقلابی رضاکار فورس کی ضرورت محسوس کرلی تھی۔ وہ عوام کی مدد سے کامیاب ہوئے تھے اور سمجھتے تھے کہ عوام ہی اس انقلاب کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ انھوں نے جوانوں کے جذبوں کو ہر شعبے میں ظہور کرنے کا موقع دیا۔ دفاعی شعبے میں انھوں نے ”سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی“ کی بنیاد رکھ دی تھی لیکن یہ بھی متشکل ہو رہی تھی۔ تربیت کا ابھی آغاز تھا۔ چھوٹے چھوٹے ہتھیار تو یہ جوان چلانا سیکھ رہے تھے لیکن بڑی دفاعی مشینری، توپیں، ٹینک وغیرہ تو سب کچھ فوج کے پاس ہی تھا اور وہی اسے چلانے کی اہلیت رکھتی تھی لیکن اس کی نفسیاتی کیفیت ہم لکھ چکے ہیں۔
ایسے میں ابھی انقلاب کی کامیابی کو تقریباً ڈیڑھ برس ہی ہوا تھا کہ عراق کی صدام حکومت نے ایران پر بھرپور فوجی یلغار کر دی۔ انقلابی قیادت ابھی داخلی مسائل سے نمٹ رہی تھی۔ عراق ایران سرحد پر عراق کی منظم اور جدید اسلحہ سے لیس فوج نے چڑھائی کر دی۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہر بمباری کی زد میں تھے۔ عراقی فضائیہ بھی جنگ میں پوری طرح شریک تھی۔ اس یلغار کا ایرانیوں نے کیسے مقابلہ کیا اور کس طرح آٹھ برس میں ایرانی سینہ سپر رہے اور اپنے ملک اور انقلاب کا دفاع کرتے رہے۔ ملک کے اندر بھی ایک کے بعد دوسرا سانحہ رونما ہو رہا تھا۔ ایک دھماکے میں منتخب پارلیمنٹ کے بہتر اراکین کو شہید کر دیا گیا۔ اسی دوران میں ایک دھماکے میں ایرانی صدر محمد علی رجائی اور وزیراعظم ڈاکٹر جواد باہنر بھی شہید ہوگئے۔ سرحدوں اور شہروں میں یہ جنگ سپاہ پاسداران اور اس سے منسلک عوامی رضا کار فورس جسے بسیج ملی کہا جاتا ہے، نے مل کر لڑی۔
اس جنگ میں بہت سے قیمتی جوان اور افسر شہید ہوئے اور اسی دوران میں لاکھوں جوانوں نے دفاع کی تربیت بھی حاصل کی۔ انھوں نے دشمن کے مقاصد اور طریق واردات کو پہچانا۔ اس دوران میں جو لوگ اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے نمایاں ہوئے سردار قاسم سلیمانی ان میں سے گل سرسبد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مختلف محاذوں پر انھوں نے جس دلیری، ثابت قدمی، حکمت عملی اور ہوش مندی کا مظاہرہ کیا اس کی وجہ سے وہ ترقی کرتے کرتے سپاہ پاسداران کی قدس فورس کے سربراہ مقرر ہوگئے۔ قدس فورس کا مقصد علاقے کی پسماندہ اقوام کی مدد اور حمایت قرار پایا۔ اس فورس نے اپنے تجربات استعماری طاقتوں کے شکنجے میں کسی اقوام کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فورس نے اپنا سب سے اہم ہدف قدس شریف کی آزادی کو قرار دیا۔ اس ہدف نے علاقے کے مسلم عوام کو یکجا کرنے اور دشمن کی شناخت کے حوالے سے متحد کر دیا۔ اسی نظریے نے ”مقاومت“ یعنی صہیونزم، استعمار اور منافقت کے مقابلے میں مزاحمت کے محاذ کو جنم دیا۔ اس طرح انقلاب اسلامی کا بنیادی نظریہ ایران کی سرحدوں سے نکل کر پورے خطے میں پھیل گیا۔ ”مقاومت“ نے استعماری مقاصد کو سمجھ کر مختلف محاذوں پر حکمت عملی ترتیب دی۔
ا ±دھر استعمار نے بھی مختلف ہتھکنڈے اختیار کیے۔ اس کا سب سے بڑا ہتھکنڈہ اسلام کو اسلام کی تلوار سے ذبح کرنا تھا۔ وہ انقلاب اسلامی اور اسلامی مزاحمت کے خاتمے کے لیے اسلام کا نام لینے والوں کو میدان میں لے آیا۔ دشمن کے پالتو سب سے بڑے عفریت کا نام ”داعش“ تھا۔ داعش اچانک اٹھی اور اس نے ”دولت اسلامیہ عراق و شام“ کے عنوان سے عراق اور شام کے بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ عراق کی فوج جو دراصل امریکہ کی تربیت یافتہ تھی، وہ محاذ جنگ سے ایک منصوبہ بندی کے تحت پسپا ہوتی رہی، چونکہ داعش کے پیچھے خود امریکہ تھا اور عراقی فوج کی قیادت پر امریکی مفادات کے نمائندہ افسران موجود تھے۔ یہ سب کچھ راتوں رات نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کے لیے بڑی تربیت، منصوبہ بندی اور سرمائے کی ضرورت تھی، جو اسے طاغوتی قوتوں اور ان کے آلہ کاروں نے فراہم کیا۔
داعش تو ایک عفریت کا نام ہے اور بہت سے تکفیری قاتل گروہ منظر عام پر آگئے۔ شام میں بھی مختلف شہروں اور علاقوں پر انھوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم کرلیں، ایک بڑا شامی علاقہ داعش کے قبضے میں آگیا۔ ان گروہوں نے فرقہ واریت کو بھی اپنا ہتھیار بنائے رکھا۔ اسرائیل اس پورے منصوبے کا اہم ترین پارٹنر تھا، چونکہ ان تمام استعماری کوششوں کا ایک بڑا ہدف اسرائیل کو مضبوط کرنا اور اس کی سرحدوں کو پھیلانا تھا۔ علاقے کے رجعت پسندوں اور طاغوتی طاقتوں کے لے پالک آمروں نے بھی اس میں اپنا حصہ ادا کیا۔ اس سب کے مقابلے میں سردار قاسم سلیمانی کا کردار بہت بنیادی رہا ہے۔ انھوں نے عراق میں عوامی رضاکار فورس کا نظریہ پیش کیا، عراق کی دینی قیادت نے عوام سے کہا کہ وہ اس رضاکار فورس کے لیے اپنا نام لکھوائیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے پندرہ لاکھ سے زیادہ افراد عراق کے دفاع کے لیے اپنا نام لکھوا چکے تھے۔ اب ان کی تربیت کا مرحلہ تھا۔ اس سب کے لیے قاسم سلیمانی اور عراق میں ان کے ساتھی تیار تھے۔
شام میں چونکہ فوج کا کمانڈ اور کنٹرول سسٹم قائم تھا، اس لیے وہاں مختلف حکمت عملی اختیار کی گئی۔ اس سے پہلے لبنان میں اسرائیل کے مقابلے میں حزب اللہ کا تجربہ بھی کیا جا چکا تھا۔ قاسم سلیمانی خود بھی اسرائیل کے مقابل حزب اللہ کے ساتھ محاذ پر نظر آئے۔ اسی طرح وہ کبھی صہیونیت کے مقابلے میں جرآت سے کھڑے شامی سپاہیوں کے ساتھ دکھائی دیے۔ انھوں نے عراقی کردستان کی حفاظت میں بھی کردار ادا کیا اور بغداد کو داعش کی یلغار سے بچانے میں بھی عراقی سپاہیوں کی تربیت اور مدد کی۔ انھوں نے داعش سمیت تمام تکفیری اور شدت پسند گروہوں کو علاقے کے عوام کے ساتھ مل کر شکست دی تو اس میں ان کے اس تجربے کا اہم کردار رہا، جو انھوں نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں ایک سپاہی سے جنرل تک کے سفر کے دوران میں حاصل کیا تھا۔
۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular