Mon Oct 12, 2026

پاکستان کی جمہوریت جان لیوا وار کیا گیا ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس ایران، سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے پر تیار ایران کو فتح کرنے کے خواہشمند بڑے بڑے ممالک تاریخ کے کوڑے دان میں جاگرے، محسن رضائی سعودی عرب کے ہوائی اڈے پروازوں کے لیے محفوظ نہیں، ترجمان انصار اللہ خلیل الحیہ کو قتل کرنیکی دھمکی منظم اسرائیلی دہشتگردی ہے، حماس خیبرپختونخوا میں گورنر راج جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے، سینیٹر علامہ ناصر عباس خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوریت پر شب خون ہے، علامہ باقر زیدی امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا، ایرانی اخبار یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

روزانہ کی خبریں

آیت اللہ محمدتقی مصباح یزدیؒ(ایک عہد ساز شخصیت)


1934ءمیں یزد میں پیدا ہوئے۔ مجتہد، فلسفی، مفسر قرآن، معلم اخلاق اور حوزہ علمیہ قم کے اساتید میں سے تھے۔ آپ حوزہ کے رسمی دروس کے ساتھ ساتھ دیگر علوم جیسے فزکس (طبیعیات)، کیمسٹری (کیمیا)، فیزیالوجی (حیاتیات) اور فرنچ زبان کی بھی تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ آپ نے یزد سے قم ہجرت کی اور مکاسب، کفایہ اور شرح منظومہ کے دروس میں شرکت کی، پھر آیت اللہ بروجردی اور امام خمینیؒ کے خارج فقہ کے دروس میں شرکت کی۔ اسی زمانے میں آپ علامہ طباطبائی سے آشنا ہوئے اور ان کے دروس اور درس اخلاق میں شریک ہوئے۔ آپ نے پندرہ سال تک آیت اللہ بہجت کے دروس میں شرکت کی۔
 امام خمینیؒ تعلیمی تحقیقی ادارہ (موسس آموزشی پڑوشی امام خمینیؒ) کے بانی اور سربراہ تھے۔ مجلس خبرگان رہبری (ایران کی سپریم کونسل جو سپریم مذہبی و سیاسی لیڈر کو چنتی ہے) کی رکنیت، شورائے عالی انقلاب فرہنگی (تہذیبی انقلاب کی اعلی مشاورتی کمیٹی) کی رکنیت، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم (حوزہ علمیہ قم کے اساتذہ کی مجلس) کی رکنیت اور مجمع جہانی اہل بیتؑ (اہلبیتؑ عالمی اسمبلی) کی اعلی مشاورتی کمیٹی کی صدارت آپ کی خدمات میں سے رہی ہیں۔
آیت اللہ مصباح یزدیؒ گذشتہ دہائیوں میں ایران کے اندر ولایت مطلقہ فقیہ کے اہم ترین حامیوں اور نظریہ کاروں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں ولایت فقیہ کے دفاع میں آپ کا اہم کردار رہا ہے۔
 انقلاب اسلامی سے پہلے پہلوی حکومت کے خلاف لکھے جانے والے سیاسی بیانیوں اور خطوط کے دستخطوں میں علامہ مصباح یزدیؒ کا نام دکھائی دیتا ہے۔ آپ رہبر معظم کے ساتھ فعال گیارہ رکنی خفیہ گروہ کے کاتب تھے جس کے لیے آپ نے مخصوص "رسم الخط” بھی ایجاد کیا تھا جسے صرف آپ سمجھ سکتے ہیں۔
 سن 1995ءمیں موسس آموزشی پڑوہشی امام خمینیؒ (انسٹیٹیوٹ) کی بنیاد رکھی گئی۔ انسانی علوم کے مختلف شعبوں میں اسلامی تعلیمات کی وضاحت، ان سے استفادہ اور اسلامی معارف و انسانی علوم میں محققین کی تربیت اس ادارے کے اہم اغراض و مقاصد تھے۔ اس انسٹیٹیوٹ کے تحت اب تک انسانی علوم کے نایاب موضوعات پر سینکڑوں کتابیں چھپ چکی ہیں اور ہزاروں شاگرد فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔
 علامہ مصباح یزدیؒ نے علوم اسلامی جیسے تفسیر، فلسفہ، منطق، فلسفہ ¿ دین، سیرتِ معصومینؑ، اخلاق، عرفان اور معارف اسلامی جیسے موضوعات میں متعدد آثار تدوین کئے ہیں جن میں سے بعض کتابوں کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
 ستاد انقلاب فرہنگی تشکیل ہونے کے ساتھ ہی علامہ مصباحؒ اس کے رکن بن گئے اور یونیورسٹیوں کے نصاب کو اسلامی بنانے کے لئے حوزہ و یونیورسٹی تعاون مرکز تشکیل پایا تو آپ اس کے بنیادی سرگرم رکن تھے۔
 آیت اللہ مصباح یزدیؒ، مجلس خبرگان رہبری کے دوسرے دور میں خوزستان کے نمائندے اور تیسرے اور چوتھے دور میں تہران کے نمائندے تھے۔
آپ مئی سنہ 1997ءسے اکتوبر سنہ ۲۰۱۲ءتک اہلبیتؑ عالمی اسمبلی کی اعلی مشاورتی کونسل کے صدر رہے۔
آیت اللہ مصباحؒ سنہ 1997ءمیں تہران کی نماز جمعہ میں خطبہ سے پہلے تقریر کرتے تھے۔ آپ کی یہ تقریریں بعد میں ” نظریہ سیاسی اسلام” کے عنوان سے دو جلدوں میں شائع ہوئیں۔
آیت اللہ مصباح یزدیؒ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن رہے ہیں۔
سنہ 2011ءسے علامہ مصباح یزدیؒ کے کچھ چاہنے والوں اور حامیوں نے جبہہ پائداری کے نام سے ایک سیاسی پارٹی تشکیل دی تھی۔ انھوں نے علامہ مصباح یزدیؒ کو اس پارٹی کے بزرگ رہنما کے عنوان سے پیش کیا تھا۔ آپ نے اس پارٹی کے آئین کی تصدیق کی تھی۔
آیت اللہ مصباح یزدیؒ کو رہبر معظم سے اور رہبر معظم کو ان سے خاص عقیدت تھی۔ رھبر معظم نے آپ سے متعلق فرمایا:
میں چالیس سال سے آغا مصباحؒ کو جانتا ہوں۔ ایک فقیہ، فلسفی، مفکر اور سیاسی مسائل کے تجزیہ نگار کے عنوان سے ان سے عقیدت رکھتا ہوں۔ اگر اللہ تعالی نے موجودہ نسل کو علامہ طباطبائیؒ اور شہید مرتضی مطہریؒ جیسی شخصیات سے استفادے کی توفیق سے محروم رکھا ہے، تو خدا کے لطف سے یہ عزیز اور عظیم القدر شخصیت (علامہ مصباحؒ) ان کی کمی کو اس زمانے میں پورا کر رہی ہے۔
 رہبر معظم کا یہ عظیم ساتھی، انقلاب کا اہم رکن، یہ عالم با عمل یکم جنوری 2021 کو ہم سب کو سوگوار کرتے ہوئے راہی دارِ بقا ہوئے۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular