
نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کی سربراہی میں 11 سیاسی جماعتوں نے مودی سرکار کیخلاف اتحاد تشکیل دیا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ کورونا وائرس کی طرح ہے جسکی علامات کچھ دیر بعد ظاہر ہونگی۔
ایک سال بعد بھارتی نظر بندی سے رہا ہونے والی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی 5 اگست کو سیاہ ترین دن اور مودی سرکار کے اقدام کو ڈاکہ زنی قرار دے چکی ہیں۔ بھارت نواز سمجھے جانے والے سیاستدان بھی بھارت کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی بیانیے کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پیپلز کانفرنس کے رہنما سجاد لون نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو کورونا وائرس جیسا خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار کے اس اقدام کے سنگین اثرات بعد میں نمودار ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قیادت نریندر مودی کے ہاتھوں بے وقوف بنتی رہی اور کشمیریوں کا حق چھن گیا۔


































