
ایران پر پابندیاں تلخ حقیقت اور ایرانی عوام کے خلاف امریکا اور یورپی ملکوں کا گھناو ¿نا جرم ہے،تین سال سے اس گھناو ¿نے جرم میں شدت پیدا ہوگئی ہے
یاد رکھنا چاہیے کہ حالات میں بہتری باہر سے نہیں آئے گی ،خطے میں سب سے زیادہ مداخلت کرنے والے ایران سے کہہ رہے ہیں خطے میں مداخلت نہ کرے
تہران(نیوزڈیسک) ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران کے خلاف پابندیوں کو ایک تلخ حقیقت اور ایرانی عوام کے خلاف امریکا اور یورپی ملکوں کا گھناو ¿نا جرم قر ار دیا، مجریہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں اور سپریم اکنامک کونسل کے دیگر ارکان سے خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہاکہ ایرانی عوام کے خلاف یہ گھناو ¿نا جرم برسوں سے انجام دیا جا رہا ہے لیکن موجودہ امریکی انتظامیہ کے دور میں پچھلے تین برس کے دوران اس میں مزید شدت پیدا ہو گئی ہے، انہوں نے کہا کہ پابندیاں ختم کرنے کے دو طریقے ہیں یا انہیں بے اثر کرکے ان پر قابوپالیا جائے یا پھر پابندیاں ہٹالی جائیں، ہم نے پابندیاں ختم کرانے کا راستہ اختیار کیا کئی سال مذاکرات کئے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا، ولی امر مسلمین نے پابندیوں پر غلبہ پانے اور انہیں غیر موثر بنانے کے دوسرے طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شروع میں سختیاں اور مشکلات ضرور پیش آئیں گی لیکن محنت، جدت عمل اور مشکلات کے مقابلے میں سینہ سپر ہوکر پابندیوں پر غلبہ پایا جا سکتا ہے، جب فریق مقابل پاپندیوں کو بے اثر ہوتا دیکھے گا تو بتدریج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوجائے گا،انہوں نے واضح کیا کہ یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ حالات میں بہتری باہر سے نہیں آئے گی اور بیرونی طاقتوں کے دعووں اور وعدوں پر ہرگز بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ،امریکا کی صورتحال واضح نہیں جبکہ یورپی ممالک نے مستقل ایران مخالف موقف اختیار کررکھا ہے،انہوں نے تین یورپی ملکوں کی تازہ ہرزہ سرائی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ خطے کے معاملات میں سب سے زیادہ اور بے جا مداخلت کرنے والے ممالک ایران سے کہہ رہے ہیں کہ خطے میں مداخلت نہ کرے، برطانیہ اور فرانس تباہ کن ایٹمی میزائلوں سے لیس ہیں جبکہ جرمنی بھی اسی راستے پر گامزن ہے لیکن ایران سے کہا جا رہا ہے کہ وہ میزائل نہ بنائے۔


































