
مچھ میں 11کان کنوں کا وحشیانہ قتل، ہزارہ برادری میں غم و غصہ کی لہر،سخت سردی میں لواحقین کا میتوں کے ساتھ دھرنا، مائیں ،بہنیں ،بچے اور بزرگ شریک
صوبائی وزرا کے بعد وفاقی وزرا کی لواحقین کو منانے کی کوشش،میتوں کی تدفین پر زور دیتے رہے،متاثرین کا مطالبات کی منظوری تک تدفین نہ کرنے کا اعلان
کوئٹہ (نیوز ڈیسک) کوئٹہ ایک بار پھر لہو لہو ہوگیا ، داعشی دہشت گردوں نے مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنیوالے 11کان کنوں کو اغوا کرنے کے بعد بیدردی سے وحشیانہ انداز میں ذبح کردیا، ہزارہ برادری کیخلاف وحشیانہ کارروائی پر کوئٹہ میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور لواحقین قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ لیکر میتوں کے ساتھ دھرنا دیکر بیٹھ گئے ،سخت سردی میں مائیں ،بہنیں ،بچے اور بزرگ اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ بیٹھے فریادیں کرتے رہے لیکن حکومت نے شرمناک بے حسی اختیار کئے رکھی ،دھرنے کے 24گھنٹے بعد دو وزراءبات چیت کرنے پہنچے جنہیں سخت شرمندگی کا سامنا کرتے ہوئے مایوس لوٹنا پڑا، بعد میں دوسرے وزرا نے بھی دھرنا ختم کرانے کیلئے مذاکرات کی کوشش کی جسے لواحقین نے ماننے اور صوبائی وزرا کے ساتھ بات چیت سے ہی انکار کردیا ،دھرنے کے تیسرے دن وزیر داخلہ شیخ رشید، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری اور چند صوبائی وزراکے ساتھ پھر لواحقین کو منانے پہنچے اور ان کا زور اس بات پر رہا کہ میتوں کی تدفین کردی جائے لیکن دہشت گردوں کی گرفتار ی سے متعلق وہ بھی کوئی یقین دہانی کرانے میں ناکام رہے ،لواحقین نے حکومتی نمائندوں پر واضح کیا کہ 22سال میں ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوئے،ہزارہ برادری پر 16سو حملے کئے گئے لیکن ایک بھی دہشت گرد پکڑا گیا نہ ہی کسی کو سزا ہوئی ، متاثرین نے وزیراعظم عمران خان کی آمد اورمطالبات کی منظوری تک میتوں کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا۔ حکومتی بے حسی پر ہزارہ برادری میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے ،دھرنے کی وجہ سے مغربی بائی پاس دونوں اطراف سے بندہوگیا ہے اور ہر قسم کے ٹریفک کی روانی معطل ہے


































