
فرانسیسی صدر کا موازنہ نازیوں سے کرنے پر فرانسیسی حکام اظہار آزادی کے دعووں کو بھول بیٹھے ،شیریں مزاری کے بیان پر احتجاج،ناظم الامور کو طلب کرلیا
مغرب آزادی اظہار رائے کے نام پر منافقت اور تکبر سے کام لے رہا ہے،فرانسیسی صدر سے متعلق بیان کے وقت آزادی اظہار رائے کہاں چلا گیا،وفاقی وزیر
اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان کی انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کے آئینہ دکھانے پر فرانسیسی حکام چراغ پا ہوگئے اور اپنے اظہار آزادی کے دعووں کو بھی بھول بیٹھے ، وزارت خارجہ نے پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا،فرانس میں مسلمان بچوں کو شناختی نمبرز الاٹ کرنے سے متعلق مضمون پر وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ فرانسیسی صدر مسلمانوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جو نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا، جس میں نازی جرمنی میں یہودیوں کو بھی شناخت کیلئے اپنے لباس پر پیلے رنگ کا ستارہ پہننے پر مجبور کیا گیا تھا،ان کے ٹوئٹ کی فرانسیسی وزارت خارجہ نے مذمت کی اور لکھا کہ ایک ذمہ دار شخصیت کی جانب سے ایسی بہتان تراشی بدنامی کے سوا کچھ نہیں ،فرانسیسی صدرکیلئے الفاظ توہین آمیز ہیں، صدر فرانس کے حوالے سے نفرت آمیز بیان تشدد کے نظریے سے بھرپور ہے، شیریں مزاری نے جواب میں لکھا کہ ایک بات تو بتائیں آخر عوامی مقامات پر راہبہ کو اپنا مذہبی لباس پہننے کی اجازت کیوں ہے جبکہ مسلمان خواتین حجاب نہیں لے سکتیں؟، فرانس کے سفیر مارک بریٹی نے شیریں مزای سے رابطہ کرکے نئے قوانین پر وضاحت دی جس پر شیریں مزاری نے ٹوئٹر سے اپنا متنازعہ تبصرہ ہٹا دیا ،شیریں مزاری نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایسا کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ ہے ، مغرب آزادی اظہار رائے کے نام پر منافقت اور تکبر سے کام لے رہا ہے، توہین آمیز حملوں کو اظہار رائے کی آزادی کہا جاتا ہے، ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اظہار رائے کا احترام کرینگے تو فرانسیسی صدر سے متعلق بیان کے وقت آزادی اظہار رائے کہاں چلا گیا؟ یہ ستم ظریفی اور منافقت ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ مغرب کا تکبر ہے، فرانسیسی صدر کو توہین محسوس ہوئی ہے کیونکہ میں نے انکا موازنہ نازیوں سے کیا


































