
21فروری تک مالیاتی، بینکاری اور تیل کے شعبے پر عائد امریکا کی ظالمانہ پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو ایٹمی معائنہ کاروں کو ملک سے باہر نکال دیا جائے گا ایرانی حکام
امریکا کی معاہدہ میں واپسی کی کوئی اہمیت نہیں ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شیطنیت سے باز رہیں ،20 فیصد تک افزودہ یورینیم کا ہدف مکمل کرلیں گے،ایرانی حکام
تہران (نیوز ڈیسک) ایران نے پابندیاں ختم نہ ہونے پر ایٹمی معائنہ کاروں کو ملک سے نکالنے کی دھمکی دیدی، پارلیمنٹ کی پریزائیڈنگ کمیٹی کے سربراہ احمد امیر آبادی نے کہا ہے کہ 21فروری تک ایران کے مالیاتی، بینکاری اور تیل کے شعبے پر عائد امریکا کی ظالمانہ پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو ایٹمی معائنہ کاروں کو ملک سے باہر نکال دیا جائے گاجبکہ ایران آئی اے ای اے کے ایڈیشنل پروٹوکول کو بھی معطل کردے گا ، ایٹمی مذاکرات اور معاہدہ کا اہم مقصد ہی پابندیوں کا خاتمہ تھا لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا ، اسپیکر ڈاکٹر قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں واضح کیا کہ جامع ایٹمی معاہدے میں امریکا کی شمولیت ہمارے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ، ہمارے لئے جو چیز اہم ہے وہ عملی طور سے پابندیوں کا خاتمہ ہے ،انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ملت ایران پر دباوَ ڈالا گیا تو مغربی محاذ کو اس کا جواب دینا ہوگا، ایران اسی وقت جامع ایٹمی معاہدے پر عمل کرے گا جب مقابل فریق اس پر عمل کرتے ہوئے اس معاہدے کے تحت تمام پابندیاں اٹھا لے گا ، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے کہاکہ امریکی حکومت ایران کے خلاف پابندیوں کو مراعات حاصل کرنے کے حربے کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے ، امریکا میں جس پارٹی کی بھی حکومت رہی ہو بین الاقوامی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑا ،دوسری جانب خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ سید کمال خرازی نے تین یورپی ملکوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رویئے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہیں شیطنت سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے،پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت ایران نے پرامن مقاصد کے لیے سالانہ ایک سو بیس کلوگرام تک بیس فی صد افرودہ یورینیم کی تیاری کا کام شروع کر دیا ہے اور ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کو بھی اپنے اقدام سے مطلع کر دیا ہے، نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں ایران یورینیم کی 20 فیصد افزودگی روک دے گا، ایٹمی انرجی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے کہا ہے کہ 120 کلوگرام تک 20 فیصد تک افزودہ یورینیم کا ہدف 8 ماہ سے پہلے بہت آسانی کے ساتھ مکمل کرسکتے ہیں


































