ایشیا پیسیفک ریجن کی چار نشستوں پر ووٹنگ میں اقوام متحدہ کے 191 رکن ممالک میں سے صرف 90 ارکان نے سعودیہ کی حمایت کی، پاکستان، چین، ازبکستان اور نیپال رکن منتخب
حقوق پامال کرنے والوں کو انسانی حقوق کونسل کی نشستوں سے نوازا نہیں جانا چاہئے، حقوق کی بدترین پامالی کرنے والے کا انتخاب کونسل کے لئے اچھا نہیں، ہیومین رائٹس واچ
نیویارک (نیوز ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سعودی عرب کو بڑی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، یمن اور اندرون ملک انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے سعودی عرب کو آئینہ دکھادیا، ایشیا پیسیفک ریجن کی 4 نشستوں کے لیے 5 ممالک کے درمیان مقابلہ تھا، ووٹنگ میں پاکستان نے 191 میں سے سب سے زیادہ 169 ووٹ حاصل کئے، ازبکستان 164، نیپال 150 اور چین 139 ووٹ لیکر کونسل کے رکن منتخب ہوگئے، سعودی عرب کی صرف 90 ممالک نے حمایت کی اور اس کی ایک بار پھر کونسل کا رکن بننے کی خواہش دل میں ہی رہ گئی، تمام ارکان تین سال کیلئے منتخب کئے گئے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کی اپیل پر بیشتر ممالک نے سعودی عرب کو کونسل کی رکنیت کیلئے ووٹ نہیں دیا،ہیومین رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سعودی عرب بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے ، وہ انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں اور سیاسی ناقدین کو نشانہ بنارہا ہے، تنظیم نے سعودی عرب کو حقوق کی سب سے بڑا پامالی کرنے والا قرار دیا،کیونکہ سعودی عرب نے دھمکی دی تھی کہ اگر اقوام متحدہ نے اس کا نام بچوں کے قاتلوں کی سالانہ فہرست سے نہ نکالا تو وہ فنڈز روک دے گا،ایچ آر ڈبلیو کے ڈائریکٹر لوئس چاربونی نے کہا کہ حقوق پامال کرنے والوں کو انسانی حقوق کونسل کی نشستوں سے نوازا نہیں جانا چاہئے، حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرنے والے کا انتخاب انسانی حقوق کونسل کے لئے اچھا نہیں ہے
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- سعودیہ کی بڑی رسوائی، انسانی حقوق کونسل میں بدترین شکست
سعودیہ کی بڑی رسوائی، انسانی حقوق کونسل میں بدترین شکست
-
Ilyas - اکتوبر 16, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 13
- 0 minute read


































