
مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے پنجاب پولیس کو عزاداری پر قدغن لگانے پر انعام و اکرام سے نوازا جاتا ہے اور ترقی دی جاتی ہے، جس طرح یہ بڑھ چڑھ کر عزاداروں کو گرفتار کرتے ہیں اور مقدمات درج کرتے ہیں ہمیں کچھ ایسا ہی تاثر مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سے تمام معاملات طے ہونے کے باوجود ایس او پیز کے مطابق عزاداری پر عملدرآمد کیا گیا، ملک کا صدر کہتا ہے عزاداری منعقد ہوگی جبکہ تھانیدار عزاداری برپا کرنیوالے عزاداروں پر دہشتگردی کے مقدمات درج کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ کو پاکستان میں بالخصوص پنجاب میں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، حکومت ہوش کے ناخن لے بصورت دیگر پُرامن، منظم اور پُرشکوہ احتجاج یا دھرنا دینا ہمارا آئینی و قانونی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عزاداروں کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک جاری رہا تو ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے، چنیوٹ میں عزاداروں نے انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کیخلاف دھرنا دیا، دو افراد کو عزاداری برپا کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا، دھرنے کے بعد انتظامیہ نے دونوں کو رہا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے اپنا رویہ نہ بدلا تو پھر ہم نیا لائحہ عمل تیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔


































