مقبوضہ وادی کو نازی عقوبت خانہ بنے ایک سال بیت گیا لاکھوں کشمیری سال بھر سے ایک بہت بڑی جیل میں مقید ہیں جس میں نہ بچے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی بیمار اور بزرگ اپنی طبی معائنے کے لیے ہسپتال جا سکتے ہیں ،نہ ہی کشمیریوں کو اپنے اوپر ڈھائے مظالم کی بپتا سنانے کے لیے انٹرنیٹ میسر ہے، جبکہ کرونا کی وبا کو جواز بناکر بچی کھچی رعایتوں کو بھی سلب کیا جاچکا ہے، گذشتہ برس 5اگست کو جب یہ فیصلہ کیا گیا تو کئی ہفتے قبل اس کیلئے بے شمار سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے،ر دہشت گردوں کے حملوں کی خفیہ اطلاعات کا حوالہ دے کر امرناتھ یاتریوں، سیاحوں اور غیرمقامی مزدوروں کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر وادی چھوڑنے کے لئے کہا گیا، سینکڑوں حریت پسندوں اوررہنماوں کو قید کیا گیا،بھارت نواز کشمیری رہنماوں کو بھی گھروں یا گیسٹ ہاوسز میں نظر بندکردیا گیا، جماعت اسلامی اور کشمیر لبریشن فرنٹ کو کالعدم قرار دیا گیا اور بڑے پیمانے پر انتظامیہ میں تبادلے عمل میں لائے گئے،مودی سرکار کا اصرار ہے کہ دفعہ 370 کشمیریوں کی ترقی اور خوشحالی میں رکاوٹ تھی اور اس کے ہٹنے سے علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف سوچ ختم ہوجائے گی،لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود مودی سرکار اپنے فیصلے کو قابل قبول نہیں بناسکی، ایک سال کے دوران سینکڑوں قوانین نافذکئے گئے ، جس میں غیرمقامیوں کو شہریت دینے، فوج کو کہیں بھی تعمیر کی اجازت اور نوکریوں کیلئے پورے بھارت کے امیدواروں کو اہل قرار دینے کی رعایت دی گئی ، سخت قوانین پابندیوں کے باوجود مودی سرکار کو جابرانہ قانون کا ایک سال پورا ہونے پر وادی میں سخت ترین کرفیو نافذ کرنا پڑا،ایک سال میں جوکچھ مودی سرکار نے مقبوضہ وادی میں کیا اگر اس کا دس فیصد بھی کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ ہو رہا ہوتا تو پوری دنیا میں شور و غل مچا ہوتا اور اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے حرکت میں آ چکے ہوتے اور فوجی اقدام تک کا فیصلہ کرلیا گیا ہوتا لیکن بھارتی درندگی پر بین الاقوامی ردعمل دوغلے پن سے بھرپور رہا، مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نہایت دبی دبی آواز میں بات کی گئی ، جانور کے حقوق پر شوروغوغا کرنے والوں نے کشمیر میں روزانہ سڑکوں پر بہتے خون پر اف تک نہ کی، کشمیریوں کے حق خود ارادی کے بارے میں کوئی آواز اٹھی نہ ہی آزادی اظہار کے دعوے یاد رہے،لیکن عالمی برادری کو آج نہیں تو کل بھارتی درندگی کا نوٹس لینا ہی پڑے گا، پوری پاکستانی قوم نے یک زبان ہو کر کشمیریوں کے اس استحصال کے خلاف آواز اٹھائی ، کشمیری اور پاکستانی عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔ کشمیر میں جب بھی بھارت نے جبر کی کوئی نئی داستان رقم کی‘ پاکستانی عوام کی طرف سے شدید غم و غصہ دیکھنے کو آیا،ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو یہ اپنے ساتھ ظالم کو بھی بہا لے جاتا ہے ، وہ دن دور دکھائی نہیں دیتا کہ جب کشمیری عوام بھارت کے غاصبانے قبضے اور جبر وبربریت سے ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جائیں گے۔
| ReplyReply allForward |


































