
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے 25 رجب المرجب کو ساتویں امام حضرت امام موسیٰ کاظمؑ کے یوم شہادت پر کہا ہے کہ آپ(ع) کے مختصر دور امامت میں آپؑ کی علمی، روحانی اور معاشرتی زندگی، آپؑ کے خاندان، اصحاب اور شاگردوں سے متعلق واقعات اور علمی اور کلامی مباحثوں کے تذکروں کے بغیر آپ کے حالات زندگی کا احاطہ ممکن نہیں۔ اسی طرح امام موسیٰ کاظمؑ نے اپنے جد امجد پیغمبر گرامی کے عمل و کردار کو اپناتے ہوئے جب یہ محسوس کیا کہ اس وقت کی منحرف قوتیں دین اسلام کے عقائد و نظریات اور تہذیب و اقدار کو مسخ کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں تو آپؑ نے ان قوتوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے میں ذرا بھی تامل سے کام نہ لیا، چنانچہ انہیں اس عمل کی پاداش میں کئی سال قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور بالآخر امام برحق کی شہادت بھی انہی تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے ہوئی۔
علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ امام موسیٰ کاظمؑ نے اپنے آباء و اجداد کی سیرت و کردار پر عمل پیرا ہو کر عصری تقاضوں پر منطبق قرآنی تفسیر کی تعبیر و تشریح اور اسلامی معارف کی روشن تصویر کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے میں امامت اور سیاسی حاکمیت کے فلسفے کو واضح کیا اور اسی طرح عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کی لئے سعی و کوشش کی، جس کی خاطر پیغمبر گرامی اور دیگر انبیائے کرام مبعوث ہوئے۔


































