
Since 1 February, MSF teams started supporting people in North Gaza with mobile clinics to provide medical care. Services include general consultations, treatment of non communicable diseases, sexual and reproductive health consultations, dressings, health promotion and nutrition.
جنیوا: بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے کہا ہےکہ اسرائیل غزہ میں انسانی امداد کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ایم ایس ایف کی کوآرڈینیٹر کیرولین ولیمن نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ امداد کو کسی سیاسی شرط سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ لاکھوں فلسطینی اب بھی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں اور غذائی قلت خطرناک سطح پر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں کمی آئی ہے، تاہم 19 اکتوبر کو ایک بڑا حملہ ہوا اور اس کے بعد تقریباً روزانہ فائرنگ جاری ہے۔ ان کے مطابق انسانی حالات میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی، پانی اور پناہ گاہوں کی شدید قلت ہے اور موسمِ سرما قریب آنے کے باوجود لاکھوں افراد خیموں میں رہ رہے ہیں۔
کیرولین ولیمن نے کہا کہ غزہ کے عوام گزشتہ دو سال سے اجتماعی تباہی کے خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمیں فوری طور پر امداد درکار ہے تاکہ لوگ کم از کم خیموں میں بستر اور کمبل کے ساتھ سو سکیں۔


































