
کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے کہا ہے کہ کنن پوشپورہ جیسے وحشتناک واقعات مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین کی دردناک تاریخ کا حصہ ہیں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی سمیت انسانیت سوز واقعات انسانی ہمدردی رکھنے والے دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ناقابل فراموش ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991ء کی رات ضلع کپواڑہ کے علاقوں کنن اور پوشپورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران درجنوں خواتین کی بے حرمتی کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس طرح کے بہت سے اور واقعات مقبوضہ جموں و کشمیر میں پیش آئے ہیں جن میں خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔
علی رضا سید نے برسلز سے جاری ایک بیان میں کہا کہ اقوام عالم کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس طرح کے واقعات اب بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کنن پوشپورہ سمیت اس طرح کے تمام واقعات میں ملوث عناصر کو سزا دلوانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ہزاروں خواتین کے عزیز و اقارب بھارتی فوج نے جبری طور پر لاپتہ کر دیے ہیں، کسی کا شوہر، کسی کا باپ، کسی کا بھائی اور کسی کا بیٹا لاپتہ ہے۔ یہ افراد یا تو ماورائے عدالت جعلی مقابلوں میں شہید کئے چکے ہیں یا نامعلوم اذیت خانوں میں نظربند ہیں۔ مشکلات کا یہ سلسلہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ہے اور ان میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔


































