Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

امریکا میں سفید فام قاتل کی بریت، عدالتی فیصلہ بے ضمیری کی انتہا قرار

کینوشا : امریکا میں عدالت نے دو مظاہرین کے قاتل کو بری کرکے ایک بار پھر انصاف کا قتل کردیا۔ عدالتی فیصلے پر عوام بھی چیخ پڑے اور اسے بے ضمیری کی انتہا قرار دے دیا۔ ڈیموکریٹ اراکین کانگریس نے عدالتی فیصلے کو سفید فاموں کے غلبے کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ رکن کانگریس کوری بش کا کہنا تھا کہ انصاف کا نظام ایسا ہے کہ سفید فام انتہا پسند آزاد گھومیں اور سیاہ فام پنجروں میں قید رہیں۔ ایک اور رکن ایڈریانو کا کہنا تھا کہ انصاف ہونے سے روکنے کے لیے سفید آنسو ہی کافی ہیں، ایک اور قاتل کو آزاد کیا گیا، امریکی نظام بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ ری پبلکن رکن گائٹز نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کائلی کانگریس میں انٹرن شپ کا حقدار ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ فیصلے سے مجھ سمیت کئی امریکیوں کو غصہ اور تشویش ہو گی۔ فیصلے پر سیاہ فام کمیونٹی سراپا احتجاج ہے۔سفید فام شہری کائل رٹن ہاؤس نے گذشتہ سال 25 اگست کو کنوشا میں نسلی امتیاز کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کر کے 2 افراد کو ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا تھا۔ قاتل نے عدالت میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین سے جان کا خطرہ تھا، اپنے تحفظ میں گولی چلائی تھی۔ عدالت کی 12 رکنی جیوری نے 25 گھنٹے غور کے بعد کائل رٹن ہاؤس کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

مزید پڑھیے

Most Popular