
کینوشا : امریکا میں عدالت نے دو مظاہرین کے قاتل کو بری کرکے ایک بار پھر انصاف کا قتل کردیا۔ عدالتی فیصلے پر عوام بھی چیخ پڑے اور اسے بے ضمیری کی انتہا قرار دے دیا۔ ڈیموکریٹ اراکین کانگریس نے عدالتی فیصلے کو سفید فاموں کے غلبے کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ رکن کانگریس کوری بش کا کہنا تھا کہ انصاف کا نظام ایسا ہے کہ سفید فام انتہا پسند آزاد گھومیں اور سیاہ فام پنجروں میں قید رہیں۔ ایک اور رکن ایڈریانو کا کہنا تھا کہ انصاف ہونے سے روکنے کے لیے سفید آنسو ہی کافی ہیں، ایک اور قاتل کو آزاد کیا گیا، امریکی نظام بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ ری پبلکن رکن گائٹز نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کائلی کانگریس میں انٹرن شپ کا حقدار ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ فیصلے سے مجھ سمیت کئی امریکیوں کو غصہ اور تشویش ہو گی۔ فیصلے پر سیاہ فام کمیونٹی سراپا احتجاج ہے۔سفید فام شہری کائل رٹن ہاؤس نے گذشتہ سال 25 اگست کو کنوشا میں نسلی امتیاز کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کر کے 2 افراد کو ہلاک اور ایک کو زخمی کردیا تھا۔ قاتل نے عدالت میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین سے جان کا خطرہ تھا، اپنے تحفظ میں گولی چلائی تھی۔ عدالت کی 12 رکنی جیوری نے 25 گھنٹے غور کے بعد کائل رٹن ہاؤس کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔


































