
پیرس : فرانس میں ایک ہفتے سے جاری پرتشدد احتجاج کا زور ٹوٹ گیا۔ مقتول نوجوان کی دادی نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کردی۔ فرانس میں پولیس فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کیخلاف منگل سے جاری احتجاج میں کمی آگئی ہے۔ تاہم اکا دکا واقعات اور کشیدگی کا سلسلہ جاری ہے۔ مشتعل حملہ آوروں نے پیرس کے نواحی علاقے میں میئر کے گھر میں جلتی ہوئی کار داخل کردی۔ جس سے گھر میں آگ لگ گئی اور میئر کی اہلیہ زخمی ہوگئیں۔ ادھر پولیس نے مزید سات سو سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا۔ جس کے بعد گرفتار مظاہرین کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کرگئی۔ پرتشدد مظاہرے روکنے کیلئے ملک بھر میں 45 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں ، ہیلی کاپٹرز سے شورش زدہ علاقوں کی فضائی نگرانی کی جارہی ہے ، متاثرہ علاقوں میں بکتر بند بھی تعینات کردی گئیں۔ مقتول نوجوان نہال کی دادی نے مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بسوں ، اسکولوں اور لوگوں کی املاک پر حملے نہ کریں۔


































