
لاہور : افغانستان میں مسلسل دوسرے جمعہ کو نمازِ کے دوران خودکش حملوں کیخلاف امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے ملک گیر یوم احتجاج منایا۔ ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، جس سے تنظیم کے مرکزی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرین سے خطاب میں مقررین نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد دہشتگردی کے بڑھتے واقعات میں شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ عالمی ایجنڈے کے تحت افغانستان میں نماز جمعہ کے اجتماعات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں دو سو زائد نمازی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی دہشتگرد تنظیم داعش اور عالمی استکبار شیطان بزرگ امریکہ ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ عراق اور شام سے تربیت یافتہ بھیڑیوں کو افغانستان میں منتقل کیا گیا، شکست خوردہ تکفیری دہشتگرد شیعہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں، ان کو تحفظ فراہم کرنے میں افغانستان کی نئی حکومت بھی ناکام نظر آتی ہے۔ قابل افسوس امر ہے کہ افغانستان میں شیعہ نسل کشی پر انسانی حقوق کی عالمی تنظمیں اس بربریت پر خاموش ہیں ۔ افغانستان سے امریکی افواج تو نکل چکی ہیں لیکن تکفیریوں اور دہشت گرد تنظیموں کو امریکی پشت پناہی حاصل ہے۔ خطے سے جب تک امریکی شیطنت کا خاتمہ نہیں ہوگا امن ممکن نہیں۔


































