
واشنگٹن : امریکا نے سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدے کےلیے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی شرط واپس لے لی۔ نیوز ایجنسی رائٹر کے مطابق امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے دستبرداری کو بڑا سمجھوتہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ہفتے سعودی عرب کے دورے سے قبل ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے بارہا کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران کئے گئے ابراہم معاہدے کو بائیڈن دور میں وسعت دینے کی کوششیں ناکام رہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو سعودی عرب کی جانب سے تسلیم کرانے کی کوششیں غزہ میں جاری جنگ پر عرب ممالک کے غصے کی وجہ سے رک گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان شہری ایٹمی تعاون ایک وسیع تر سکیورٹی معاہدے کا حصہ ہے جسے واشنگٹن نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے سے مشروط کیا تھا۔ سعودی حکام نے اس شرط کو مسترد کردیا تھا اور واضح کیا تھا کہ تل ابیب کے ساتھ سفارتی تعلقات کو تسلیم کرنے کی شرط اس کے فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر منحصر ہے۔


































