Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

10 لاکھ فلسطینیوں کو غزہ سے بے گھر کرکے ‘لیبیا’ منتقل کرنے کا امریکی منصوبہ

واشنگٹن : امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز نے پانچ باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ غزہ کے تقریباً دس لاکھ فلسطینیوں کو مستقل طور پر لیبیا منتقل کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ تاحال زیرِ غور ہے اور اس پر ٹرمپ انتظامیہ نے لیبیائی قیادت کے ساتھ بات چیت بھی کی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے بدلے امریکا ممکنہ طور پر لیبیا کے ان اربوں ڈالرز کو جاری کر سکتا تھا، جو گزشتہ دس برس سے امریکی تحویل میں منجمد ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کس لیبیائی فریق کے ساتھ اس منصوبے پر گفتگو کر رہی تھی۔
این بی سی کے مطابق تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا تھا۔ منصوبے کی تفصیلات، وقت کا تعین اور اس پر عمل درآمد کا طریقہ کار اب بھی غیر واضح ہے، اور امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کو کئی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق: "یہ ایک انتہائی مہنگا منصوبہ ہو گا، اور یہ بھی واضح نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اسے مالی طور پر کیسے ممکن بنائے گی۔”
یاد رہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کی ٹرمپ کی یہ تجویز عرب دنیا میں شدید مخالفت کا سامنا کر چکی ہے۔ اس کے ردعمل میں عرب ممالک نے غزہ کی ازسرِ نو تعمیر کی ایک متفقہ منصوبہ بندی کی، تاکہ فلسطینی اپنی زمین پر ہی رہیں۔
جنوری میں ٹرمپ نے فلسطینیوں کی غزہ سے نقل مکانی کی تجویز دی تھی، جو مصر اور اردن کی جانب سے مکمل طور پر مسترد کر دی گئی۔ ان دونوں ممالک کو ابتدائی طور پر اس منصوبے کے لیے تجویز کیا گیا تھا، حالانکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل ان فلسطینیوں کا محاصرہ، بمباری اور بھوک کا سبب بنی ہوئی ہے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے فلسطینیوں کو دیگر ممالک منتقل کرنے کی تجویز بھی دی۔
ٹرمپ نے بارہا "غزہ کو مشرق وسطیٰ کی ریویرا” میں تبدیل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، گویا یہ تعمیرِ نو کا منصوبہ ہے، حالانکہ وہ غزہ میں روزانہ ہونے والی شہری ہلاکتوں کو روکنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ فلسطینیوں کو ایسی جگہ منتقل کر دینا بہتر ہے "جہاں وہ خوشی سے جی سکیں اور اُن پر گولیاں نہ چلیں”۔ یہ تجویز ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر دہرائی۔
این بی سی کے مطابق امریکی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ غزہ کے فلسطینیوں کو لیبیا تک فضائی، زمینی یا بحری راستے سے کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور منصوبے میں فلسطینیوں کو مالی ترغیبات، جیسے مفت رہائش اور تنخواہ کی پیشکش بھی شامل ہے۔ ساتھ ہی شام کو بھی فلسطینیوں کی منتقلی کے لیے ممکنہ مقام کے طور پر زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔
ادھر حماس کے رہنما باسم نعیم نے این بی سی کو بتایا کہ "ہمیں فلسطینیوں کو لیبیا منتقل کرنے سے متعلق کسی بھی قسم کی بات چیت کا علم نہیں ہے۔ فلسطینی اپنی سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں، وہ اپنی زمین، اپنے وطن، اپنے خاندان اور بچوں کے مستقبل کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ غزہ کے عوام ہی وہ واحد فریق ہیں جو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔”

مزید پڑھیے

Most Popular