
واشنگٹن : امریکا نے اپنے دعووں کے برعکس ایران کیخلاف قومی ایمرجنسی میں مزید ایک سال کی توسیع کردی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا کی ایران دشمنی برقرار ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات ابھی تک بحال نہیں ہوئے اور ایران کی جانب ایمرجنسی کی حالت سے نمٹنے کے لیے نومبر 1979 سے شروع ہونے والا عمل جاری رہے گا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں ایگزیکٹو آرڈر 12170 کا حوالہ دیا گیا جو پہلی بار 14 نومبر 1979 کو جاری کیا گیا تھا۔ یہ ایگزیکٹو آرڈر سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی صدارت کے دوران اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے 10 دن بعد جاری کیا گیا تھا۔ایگزیکٹو آرڈر کو تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹک صدور نے 42 سال تک بدستور جاری رکھا ہے۔ دنیا کو توقع تھی کہ ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں توسیع کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔


































