Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

امریکا کی ایران دشمنی، 42 سال سے جاری قومی ایمرجنسی میں مزید ایک سال کی توسیع

واشنگٹن : امریکا نے اپنے دعووں کے برعکس ایران کیخلاف قومی ایمرجنسی میں مزید ایک سال کی توسیع کردی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا کی ایران دشمنی برقرار ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے تعلقات ابھی تک بحال نہیں ہوئے اور ایران کی جانب ایمرجنسی کی حالت سے نمٹنے کے لیے نومبر 1979 سے شروع ہونے والا عمل جاری رہے گا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں ایگزیکٹو آرڈر 12170 کا حوالہ دیا گیا جو پہلی بار 14 نومبر 1979 کو جاری کیا گیا تھا۔ یہ ایگزیکٹو آرڈر سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی صدارت کے دوران اور تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے 10 دن بعد جاری کیا گیا تھا۔ایگزیکٹو آرڈر کو تمام ریپبلکن اور ڈیموکریٹک صدور نے 42 سال تک بدستور جاری رکھا ہے۔ دنیا کو توقع تھی کہ ایران کے خلاف قومی ایمرجنسی میں توسیع کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے

Most Popular