
ریاض : سعودی عرب نے بین الاقوامی اداروں کے دباؤ پر 8 سال سے قید سب سے کم عمر سیاسی قیدی کو رہا کر دیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مرتضیٰ قریرس کو حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث ہونے کے شبے میں 2014 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس کی عمر صرف 13سال تھی۔ استغاثہ نے مرتضیٰ کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا تاہم اسے 12 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق قریرس نے شیعہ اکثریتی علاقے قطیف میں بچوں کے ایک گروپ کی قیادت سائیکلنگ کے احتجاج میں کی تھی۔2011 میں اس پر اپنے بھائی علی کے جنازے کے موقع پر حکومت کیخلاف احتجاج کا الزام لگایا گیا تھا۔ علی کو حکومت مخالف مظاہرے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔


































