
جنیوا: عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پٹی میں بیس لاکھ افراد بھوک کے باعث موت کے دہانے پر ہیں۔ جان بوجھ کر امداد کی بندش سے قحط کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ اگر داخلے کی اجازت دی جائے تو اقوام متحدہ کے دیگر ادارے فلسطینی سرزمین میں امداد پہنچانے کے لیے تیار ہیں. صرف چند منٹ کی دوری پر ایک لاکھ ساٹھ ہزار میٹرک ٹن خوراک روک دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جارحیت۔انخلاء کے احکامات اور ناکابندی ایک ایسے نظامِ صحت کی تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے جو پہلے ہی گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہے۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ لوگ قابل علاج بیماریوں سے مر رہے ہیں کیونکہ انہیں ادویات میسر نہیں جو سرحد پر پڑی ہیں۔ دس ہزار سے زائد مریضوں کو غزہ سے فوری طبی انخلاء کی ضرورت ہے۔ اسرائیل ان کے انخلاء اور فوری طور پر ضروری خوراک اور ادویات کو داخل ہونے کی اجازت دے۔


































