
انقرہ: ترکیہ نے شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں کے لیے فوجی سازوسامان بھیجنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ترک حکام نے بلوم برگ کو بتایا کہ آئندہ ہفتوں میں شام کے لیے بکتر بند گاڑیاں، ڈرونز، توپخانے، میزائل اور فضائی دفاعی نظام بھیجا جائے گا، جو بنیادی طور پر شمالی شام میں تعینات ہوگا۔ ذرائع کے مطابق یہ نقل و حمل شام کے جنوبی علاقوں سے گریز کرتے ہوئے کی جائے گی، جہاں اسرائیل کے ساتھ کشیدگی بدستور جاری ہے۔
ترکیہ کا یہ اقدام احمد الشراع کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہےجو شام کے خود ساختہ عبوری صدر ہیں اور گذشتہ سال بشارالاسد حکومت کے خاتمے کی مہم میں پیش پیش تھے۔ الشراع اس وقت شام کی مسلح افواج کی ازسرِنو تشکیل پر کام کر رہے ہیں۔ جنہیں اسرائیل کی جنگ کے بعد شدید نقصان پہنچا تھا۔ انقرہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ الشراع کی قیادت کو اس لیے سپورٹ کر رہی تاکہ سرحدی علاقوں میں کرد خودمختاری کے مطالبات کو محدود کیا جا سکے۔


































