
اسلام آباد: قومی رحمت للعامین ﷺ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی سمت درست کرنی ہے، ملکی ترقی کے لیے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے، ملک کے نوجوانوں کو صحیح راستے پر لگانا چیلنج ہے، برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنے کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا، جب تک زندہ ہوں رول آف لا کے لیے لڑتا رہونگا، طاقتور کو قانون کے نیچے لانا ہوگا۔ انہوں نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک جھوٹ بولنے پر مقامی بااثر شخص کو جیل بھیج دیا گیا اور اگر میں پاناما کی بات کروں تو ہر روز نئے جھوٹ کہے گئے اور قطری خط آگیا۔ 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک موجود ہے، اگر 30 سے 40 ہزار پاکستان آکر سرمایہ کاری کریں تو آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں پڑے گی، میں ایک ایسے پاکستانی کو جانتا ہوں جس کے پاس اتنی دولت ہے جتنا پاکستان پر آئی ایم ایف کا قرضہ ہے لیکن پاکستان کا سسٹم انہیں پاکستان نہیں آنے دیتا، وہ پاکستان آنے کے لیے بے قرار رہتے ہیں، اگر خوشحال ہونا ہے تو قانون کی بالادستی قائم نہیں کریں گے۔
وزیراعظم نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آج کل مشکل دور ہے اور ساتھ ساتھ مہنگائی بھی ہے، جس کی اہم وجوہ کورونا وائرس ہے۔ احساس پروگرام کے ذریعے سوا کروڑ خاندانوں کوسستے قرضے دیں گے، سوا کروڑخاندانوں کوکھانے، پینے کی اشیا پرسبسڈی دیں گے، کامیاب پاکستان بھی ایک انقلابی پروگرام ہے، خیبرپختونخوا کو ہیلتھ کارڈ دے دیئے، پنجاب کے شہریوں کو مارچ تک مل جائیں گے، غریب خاندان ہیلتھ کارڈ کے ذریعے اپنا علاج کراسکیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ اللہ کا خاص شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم آج بھر پور طریقے سے نبی آخر الزمان ﷺ کے یومِ ولادت کا جشن مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو اپنے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔ اسلام تلوار کی زور پر نہیں تھا بلکہ فکری انقلاب سے پھیلا تھا، سوچ بدلی اور ذہن بدلے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمان جب تک نبی کریم ﷺکی تعلیمات پر گامزن رہے کامیابی ان کا مقدر بنی اور جو لوگ منحرف ہوئے انہیں پستی نصیب ہوئی، اس طرح مدینہ کی ریاست ایک ماڈل بنی۔
عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی اور متفرق قانون کے خاتمے کے ساتھ ہی طرز معاشرت میں فکری انقلاب لاسکتے ہیں۔ ریاست مدینہ کے اہم ستون میں فلاحی ریاست کا تصور بھی ہے، حضرت محمد ﷺ نے دنیا کی پہلی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی اور ریاست نے نچلے طبقے کو بنیادی حقوق دیے اور انصاف اور انسانیت کی بدولت قومیں ایک ہوجاتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ میں میرٹ کی بالادستی تھی، قابلیت کی بنیاد پر لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے تھے اور اسی معاشرے میں لیڈرز پیدا ہوئے، شخصیت سازی کی بدولت صحابہ لیڈر بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سمیت تمام دیگر شعبہ جات میں اگر لیڈر صادق و امین نہ ہو تو اس کی عزت نہیں ہوتی، مدینہ کی ریاست میں پہلی مرتبہ خواتین کو وراثت اور غلاموں کو حقوق فراہم کیے۔ جس طرح مغرب میں نوکروں کو رکھا جاتا ہے اور جو صورتحال یہ یہاں ہے، اس کو دیکھ کر شرم آتی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ خاندانی نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، ٹی وی چینلزکے پروگراموں کو مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے، ہم بچوں سے موبائل نہیں چھین سکتے، کم از کم تربیت تو کر سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے نوجوانوں کوبچانا ہے، ہالی ووڈ کلچرہمارے نوجوانوں کوتباہ کرے گا۔ معاشرے میں جنسی جرائم بڑھنا بہت بڑا خطرہ ہے۔


































