
اسلام آباد: پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف توشہ خانہ کیس کا فیصلہ جلدبازی میں دیا جس میں خامیاں ہیں۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت کی۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے وکیل الیکشن کمیشن سے پوچھا کہ ٹرائل کرنے میں اتنی جلدی کیا تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو گواہان پیش کرنے کیلئے وقت نہیں دیا گیا۔ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ نے ایک ہی دن میں فیصلہ دیا جو درست نہیں تھا۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بادی النظر میں خامیاں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ٹرائل کے قانونی نکات کا تقاضہ پورا ہونا چاہیے، ٹرائل کورٹ نے اختیار سماعت ہائی کورٹ کے مسترد شدہ فیصلے پر انحصار کر کے فیصلہ سنا دیا۔ واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے پی ٹی آئی چیئرمین کو 3 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔


































