
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے اپنے محرم الحرام میں خطاب میں صیہونی حکومت کی صورتحال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج صیہونی حکومت کی تاریخ کا بدترین دن رقم ہوا, یہ دور صیہونی حکومت کی تاریخ کا بد ترین دور ہے اور یہی وجہ ہے کہ صیہونی حکومت تباہی کی سمت بڑھ رہی ہے۔ اُن کا اشارہ گزشتہ روز صیہونی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے عدالتی اصلاحات کے متنازعہ بل کی جانب تھا۔ رہبر مقاومت نے مزید کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ یہ باور کرا دیا گیا تھا کہ صیہونی فوج ناقابل شکست ہے، اُس نے عرب ممالک کی افواج کو شکست دی ہے اور مقبوضہ علاقوں کو آزاد نہیں کرایا جا سکتا مگر جب 1982 میں اُس نے لبنان پر چڑھائی کی تو ایک گروہ ایسا تھا جو اسکی شکست کے امکان پر یقین رکھتا تھا اور پھر اُس نے اسے 1985 میں شکست دے بھی دی اور پھر یہ سلسلہ سنہ 2000 کی بڑی فتح تک جاری رہا، اس طرح عالم عرب اور خود صیہونی حکومت میں اُس کے ناقابل شکست ہونے کا تصور یکسر بدل گیا۔
سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 200 برسوں کے دوران جس ملک نے دنیا میں سب سے زیادہ جنگیں چھیڑی اور قتل عام کیا، وہ امریکہ ہے جو عصر حاضر کا سب سے بڑا مجرم ہونے کے باوجود انسانی حقوق کا دعویدار بنا ہوا ہے۔


































