
تہران : ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی سو گھنٹوں کے دوران امریکا نے تقریباً تین اعشاریہ سات ارب ڈالر پھونک دئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم یومیہ آٹھ سو اکانوے ملین ڈالر بنتی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے پہلے سو گھنٹوں کے دوران امریکا کے فوجی اخراجات کا تخمینہ تقریباً تین اعشاریہ سات ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اخراجات زیادہ ہونے کی بڑی وجہ جدید ہتھیاروں، میزائلوں اور فوجی آپریشنز پر آنے والی بھاری لاگت ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس رقم کا ایک حصہ پہلے سے موجود دفاعی بجٹ کے تحت خرچ ہوا جبکہ باقی اخراجات کے لیے اضافی فنڈز درکار ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اخراجات میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی کارروائیوں کی شدت، استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور ایران کے ردعمل کے مطابق مستقبل میں اخراجات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔


































