
مقبوضہ بیت المقدس: حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے غاصب صیہونی ریاست کے مقابل مقبوضہ فلسطین کے قصبے بیتا کے لوگوں کی مزاحمت کو اسلامی مزاحمت کیلئے رول ماڈل قرار دیا ہے، انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ بیتا قصبے میں ہمارے عزیز گذشتہ سو دنوں سے مزاحمت کر رہے ہیں، میں جبل صبیح کے پاسبانوں پر درود بھیجتا ہوں جو غاصب اور جارح دشمن کے مقابلے میں اپنی مٹی اور سرزمین کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں، اس سو روزہ شجاعانہ مزاحمت نے تین ایسے حقائق واضح کر دیے ہیں جو غاصب صیہونی رژیم کے ناجائز قبضے اور یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف قومی شعور کی علامت ہیں، پہلی حقیقت یہ ہے کہ ہماری عوام، عوامی مزاحمت کے ذریعے اور اسے وسعت دے کر اور اس کیلئے نت نئے ہتھیار بنا کر اپنے جائز حقوق کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ دوسری حقیقت عمل کے میدان میں وحدت اور اتحاد ہے۔ اس اتحاد کی بدولت ہر گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد احتجاجی مظاہروں میں شریک ہو رہے ہیں، تیسری حقیقت یہ ہے کہ "بیتا” کا قصبہ فلسطینی عوام کی اپنی سرزمین سے وفاداری کی علامت بن چکا ہے، اس مزاحمت نے ظاہر کیا ہے کہ وہ سازباز کے مخالف ہیں اور غاصب صیہونی رژیم کی سازشوں کے خلاف ڈٹ جانے کے قائل ہیں، اسماعیل ہنیہ نے غاصب صیہونی رژیم کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قدس شریف کے دفاع کیلئے اٹھائی گئی شمشیر قدس ابھی تک نیام میں نہیں ڈالی گئی اور غاصب صیہونی رژیم کے خلاف مسلح جدوجہد بدستور جاری ہے۔ ہماری جنگ فلسطینی قوم کی آزادی اور جلاوطن فلسطینیوں کی وطن واپسی تک جاری رہے گی۔


































