
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نےسپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر تا حکم ثانی عملدرآمد روک دیا۔ سپریم کورٹ میں درخواستوں پرسماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔حکم نامہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے تحریر کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ بادی النظر میں عدلیہ کی آزادی اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر تا حکم ثانی کسی بھی طریقے سے عمل درآمد نہیں ہوگا۔عدالت عدلیہ اورخصوصی طور پر سپریم کورٹ کی ادارہ جاتی آزادی کے لیے متفکر ہے۔ حکم نامہ کے مطابق اس ضمن میں مفاد عامہ اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے عدالت کی مداخلت درکار ہے۔ سیاسی جماعتیں چاہیں تو اپنے وکلاء کے ذریعے فریق بن سکتی ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ جس کے پاس قانون ریگولیٹ کرنے کی طاقت ہو وہ اس کو تباہ کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے، موجودہ کیس میں عدلیہ کی آزادی کی تباہی کا خدشہ ہے۔عدالت نے کہا کہ کیا مقننہ کے پاس سپریم کورٹ کے قوانین میں رد و بدل کا اختیار ہے؟ واضح ہونا ضروری ہے پارلیمنٹ آرٹیکل 191 میں اختیارات میں رد و بدل کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟تحریری حکم نامہ میں کہا گیا کہ عدالت کی پریکٹس اور پروسیجر میں رد و بدل خواہ کتنا ہی ضروری ہو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرتا ہے، مجوزہ بل یا ایکٹ کو آئین کے مطابق ہونا چاہیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے وکیل نے اہم قانونی نکات اٹھائے، عدلیہ کی آزادی سے متعلق بھی نکتہ اٹھایا گیا۔عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ، بل کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی، کیس کی مزید سماعت 2 مئی کو ہوگی۔


































