
خرطوم: مغربی سوڈان کے علاقے دارفور میں صورتحال بدترین شکل اختیار کرگئی۔ مرکزی شہر الفاشر میں عرب امارات کی سرپرستی میں باغی ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز آر ایس ایف نے ہزاروں افراد کو یرغمال بنالیا ہے۔۔لسوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک کے مطابق آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے الفاشر میں ہزاروں شہریوں کو محصور کر رکھا ہے اور نقل مکانی کے تمام ذرائع ضبط کر لیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ گولیاں لگنے سے زخمی اور غذائی قلت کے شکار افراد کو بھی فرار ہونے سے روکا گیا ہے۔
قاہرہ میں سوڈان کے سفیر عماد الدین مصطفی عدوی نے کہا ہے کہ آر ایس ایف نے شمالی دارفور میں جنگی جرائم کیے ہیں اور اس کارروائی میں متحدہ عرب امارات کی مبینہ مدد حاصل کی۔
سوڈانی وزیرِاعظم کامل ادریس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آر ایس ایف کو بین الاقوامی عدالتوں میں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے، البتہ انہوں نے غیر ملکی افواج کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا۔
واضح رہے کہ 26 اکتوبر کو آر ایس ایف نے شمالی دارفور کے دارالحکومت الفاشر پر قبضہ کیا تھا، جس کے بعد مقامی و بین الاقوامی اداروں نے شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر قتلِ عام کی رپورٹیں دی تھیں۔


































