Tue Oct 20, 2026

روس ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا، روسی وزیر خارجہ مشرقی وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت قطر کا نئی علاقائی دفاعی شراکت داری کا اعلان یمن کے صوبے شبوہ میں فوجی کیمپ پر حملہ، سعودی نواز ملیشیا کے 53 افراد ہلاک، 200 زخمی ایرانی تنصیبات پر حملہ ہوا تو 9 ممالک کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، مشیر ولی امر مسلمین یورپ پرتشدد مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا، فرانس، اٹلی، البانیہ، پرتگال میں جلاؤ گھیراؤ آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا یمن پر سعودی جنگی طیاروں کے حملے، یمنی فوج کا نجران پر جوابی میزائل حملہ شرائط پوری ہو جائیں تو آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل جائے گی، عراقچی بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، بم دھماکے سے میجر شہید، 4 دہشت گرد ہلاک مہر داد اخلاقی ایران کے نئے وزیر دفاع منتخب ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کینیڈا کے فوجی اڈے پر تباہ کن آتشزدگی، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق؛ تحقیقات جاری فرانس میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر پُرتشدد احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، سینکڑوں گرفتاریاں یمنی فوج نے سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا، 2 ارکان ہلاک

روزانہ کی خبریں

روسی گیس لائن دھماکے امریکا، یوکرین، پولینڈ اور جرمنی کے تعاون سے کیے گئے

انقرہ: ترک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپ کو گیس فراہم کرنیوالی روسی پائپ لائنز نارڈ اسٹریم اور نارڈ اسٹریم ٹو میں دھماکے امریکا، یوکرین، پولینڈ اور جرمنی کے تعاون سے کیے گئے تھے۔ نارڈ اسٹریم اور نارڈ اسٹریم 2 میں دھماکے 26 ستمبر 2022 کو ہوئے تھے، جرمنی، ڈنمارک اور سوئیڈن کا کہنا ہے کہ گیس پائپ لائنوں کو ثبوتاژ کیا جانا خارج از امکان نہیں۔ نارڈ اسٹریم کو آپریٹ کرنیوالی کمپنی کے مطابق مرمت کے کام سے متعلق ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا، پائپ لائن کی تباہی کو روس نے بین الاقوامی دہشتگردی قرار دیا تھا اور اسی حوالے سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا ہےکہ نارڈ اسٹریم کی تباہی سے متعلق روس نے ڈیٹا مانگا تھا جو تاحال نہیں دیا گیا۔ ترک میڈیا کے مطابق تمام تحقیقی ادارے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ثبوتاژ طاقتور ممالک کی مداخلت کے بغیر ممکن نہیں اور یہ کہ روس ابتدا ہی سے اس پائپ لائن کا مخالف تھا۔حقائق نشاندہی کرتے ہیں کہ نارڈ اسٹریم کو تباہ کرنے سے متعلق امریکا، یوکرین، پولینڈ اور جرمن کو نہ صرف علم تھا بلکہ اس میں ان ممالک کا تعاون بھی شامل تھا۔

مزید پڑھیے

Most Popular