
واشنگٹن : امریکا میں نائن الیون حملوں میں ہلاک افراد کے لواحقین نے صدر جو بائیڈن سے حملوں میں ملوث سعودیوں کے کردار کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انھیں میموریل سروس میں شرکت نہ کرنے کا کہا گیا ہے، 1800 افراد کے دستخط کے ساتھ جوبائیڈن کو بھیجے گئے خط میں لکھا ہے کہ جوبائیڈن واقعہ سے متعلق وہ دستاویزات جاری کریں جو سعودی عرب کے حکام کو اس سازش میں ملوث ثابت کرتی ہیں، لواحقین نے لکھا کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس صورت میں انھیں اگلے ماہ 20 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت نہیں کرنی چاہیے، ہم ہلاک ہونے خاندان کے ارکان، سب سے پہلے حادثے پر مدد کے لیے پہنچنے والے اور زندہ بچ جانے والوں، بیمار اور زخمیوں کے ساتھ نیک نیتی رکھتے ہوئے تب تک صدر کو خوش آمدید نہیں کہہ سکتے جب تک اپنا عہد پورا نہیں کر دیتے، انھوں نے صدر بائیڈن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان تین مقامات نیویارک، ورجینیا اور پنسلوانیا سے دور رہیں جہاں حملے ہوئے تھے، لواحقین کا کہنا ہے 2004 میں نائن الیون کمیشن کے اختتام کے بعد سے سعودی حکومت کے اہلکاروں کو ان حملوں میں ملوث کرنے والے بہت سے تحقیقاتی شواہد سامنے آئے ہیں، امریکا میں آنے والی متعدد انتظامیہ، محکمہ انصاف اور ایف بی آئی نے ان معلومات کو خفیہ رکھنے اور امریکی عوام کو 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بارے میں مکمل سچائی سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔


































