
تہران: ولی امرمسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہےکہ شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ایران اور عالم اسلام کو کفر اور استکبار کے زیر اثر آنے سے بچایا۔ شہداء کانفرنس کے منتظمین سے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ منتظمین نے کانفرنس کا اہتمام کرکے گرانقدر خدمت انجام دی ہے۔ منتظمین کی بریفنگ بہت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران ان شہروں میں سے ہے جن کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں۔ ایرانی قوم کے اندر بہت ساری صلاحیتین موجود ہیں جن میں شجاعت، غیرت، دینداری اور حریت پسندی شامل ہیں۔ یہ ساری خصوصیات تہران کے عوام کے اندر پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قم، مشہد، تبریز اور اصفہان جیسے شہروں کی طرح تہران نے بھی انقلاب اسلامی کے لئے بہت قربانیاں دیں بلکہ تہران نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات، محرم کی مجالس اور دیگر مواقع پر عوام نے بڑی تعداد میں ریلیوں اور جلوسوں میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے درجات بلند ہیں البتہ ان کے درجات مختلف ہیں۔ شہداء کربلا کا رتبہ سب سے بلند ہے جو دوسروں کے کندھے سے گزریں گے۔ شہداء کے خون کی برکت سے ایران اور عالم اسلام کو کفراور استکبار کے زیر اثر آنے سے بچایا۔ ان کی قربانیوں کے اثرات پورے عالم اسلام میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ ہم نے کسی پر اپنا حکم نہیں چلایا بلکہ یہ سب انقلاب سے خود متاثر ہوئے ہیں۔ انقلاب اسلامی نسیم بہار کی حیثیت رکھتا ہے جو فطری طور پر اپنا اثر دکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کفر اور استکبار کی ثقافت میں ڈھلنے کا عمل پہلوی دور سے پہلے شروع ہوا تھا۔ عیاش شہزادوں اور بادشاہوں نے مغربی ثقافت کو اپنانا شروع کیا۔ پہلوی دور میں یہ عروج پر پہنچا۔ شہنشاہی حکومت نے برطانیہ کے ساتھ معاہدے کئے اس کے بعد براہ راست داخل ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے اس موقع پر ایران کی مدد کی اور ایرانی عوام کو ان مشکل حالات سے نکالا۔ انقلاب اسلامی نے ایران کو نجات دی۔ ایرانی عوام نے اپنی شناخت کی جنگ لڑی۔ ایرانی عوام نے اپنی جان دی لیکن اپنی شناخت کو مٹنے سے بچایا۔


































