
کابل: افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دو سو سے زائد سابق فوجیوں اور حکام کو قتل کردیا گیا۔ افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق دو سال میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے 800 واقعات کو رپورٹ کیا ہے۔ جس میں من مانی گرفتاریاں، حراست، تشدد اور جبری گمشدگیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان دور حکومت کے پہلے چار ماہ کے دوران ماورائے عدالت ہلاکتوں میں سے نصف کا اندراج ہوا ہے۔ 2022 میں بھی خلاف ورزیاں جاری رہیں اور 70 ماورائے عدالت قتل ریکارڈ کیے گئے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہاکہ یہ رپورٹ طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد سے سابق افغان حکومت اور فورسز سے وابستہ افراد کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی ایک سنجیدہ تصویر پیش کرتی ہے۔ ترک نے طالبان پر بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور مزید خلاف ورزیاں روکنے پر زور دیا۔


































