
بیروت: حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے کہاہے کہ صیہونی دہشت گردی ہمارے عوام کے عزم، استقامت اور مزاحمت کو نہیں توڑ سکے گی اور نہ ہی وہ اپنے کسی جارحانہ اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے گی۔ بیروت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اسامہ حمدان نے فلسطینی دھڑوں کو ختم کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں کو بھی کھوکھلے دعوے قرار دیا اور کہا کہ یہ دھمکیاں صیہونی حکومت کے دیوالیہ پن کی دلیل ہیں۔ حمدان نے مزید کہا کہ غزہ پر نسل کشی کی جنگ میں اسرائیل کی کامیابیاں دہشت گردی، عام شہریوں، بچوں اور عورتوں کا قتل عام اور انسانی زندگی کے تمام اجزاء کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ صیہونی قابضین نے امریکی حمایت اور ہتھیاروں کے ذریعے اور بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور اسے روکنے میں ناکامی کے باعث ہمارے لوگوں کے خلاف نسل کشی کی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ انہوں نےکہا کہ صیہونی وزیر اعظم اور ان کی حکومت ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس کا کوئی اختتام نہیں۔ وہ غزہ کی ریت میں زیادہ سے زیادہ دھنس رہے ہیں۔ ان کی حکومت کا خاتمہ بالکل قریب ہے۔ اسامہ حمدان نے کہاکہ غزہ کے لوگ شکست کھائیں گے نہ ہی ہتھیار ڈالیں گے وہ اس جنگ میں فاتح بن کر ابھریں گے۔ انہوں نے جنگ بندی سے پہلے قیدیوں کی رہائی پر مذاکرات کو مسترد کردیا اور کہا کہ اگر اسرائیل یرغمالیوں کی زندہ واپسی چاہتا ہے تو اسے حملے روکنا ہوں گے۔


































