
واشنگٹن : امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رکن کیری پریجین بولر کے صیہونیت مخالف موقف پر تنازع پیدا ہونے کے بعد انہیں کمیشن سے ہٹادیا گیا۔ بولر نے کمیشن کے اجلاس میں کہا کہ کمیشن میں شرکت کے لیے لوگوں کو صیہونیت کی حمایت پر مجبور کرنا مذہبی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کیتھولک ہونے کے ناطے انہیں آئینی اور خدا سے دی گئی آزادی ہے کہ وہ کسی سیاسی نظریہ یا ایسی حکومت کی حمایت نہ کریں جو عام شہریوں کے قتل اور بھوک کے عمل میں ملوث ہو۔
انہوں نے کہا کہ بعض ارکان اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ کمیشن کے چیئرمین ڈین پیٹرک نے یہودیت مخالف مباحثے کے بعد کیری پریجین بولر کو کمیشن سے نکال دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بولر نے ذاتی اور سیاسی ایجنڈا چلا کر کمیشن کی کارروائی کو متاثر کیا۔ بولر نے اپنے جواب میں کہا کہ اسرائیل کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گی اور ایسا کرنے کے بجائے وہ موت کو ترجیح دیں گی۔


































