
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ فسادات کے دوران شہری اموات اور تباہی کا اصل مجرم قرار دے دیا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے تنبیہ کی کہ امریکا نہ صرف داخلی انتشار کو ہوا دے رہا ہے بلکہ ایرانی قوم پر دباؤ ڈالنے کے لیے جھوٹا بیانیہ بھی استعمال کر رہا ہے۔ ایران امریکی مداخلت کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے اور اپنی خودمختاری پر کسی دباؤ کو برداشت نہیں کرے گا۔
پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم مبعث کے موقع پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ہزاروں افراد سے خطاب کیا اور کہا ہےکہ ماضی میں فسادات میں امریکی میڈیا، امریکہ اور یورپ کے دوسرے درجے کے سیاستدان مداخلت کرتے تھے لیکن حالیہ فسادات میں امریکی صدر نے خود مداخلت کی، بیانات دیے۔ فتنہ گروں کی حوصلہ افزائی کی، اور یہاں تک کہ فوجی مدد فراہم کرنے کی بات کی۔ حالیہ فسادات میں اموات اور تباہی کا براہ راست ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔ حالیہ بدامنی امریکہ کی طرف سے اکسائی گئی بغاوت تھی۔
ولی امر مسلمین نے کہا کہ حالیہ بغاوت کے دوران امریکا نے جلاؤ گھیراؤ، بدامنی پھیلانے اور تباہی مچانے والوں کو محب وطن عوام کے طور پر پیش کیا۔ یہ ایرانی قوم پر سنگین بہتان ہے اور ایسے اقدامات جرم ہیں۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ امریکا نہ صرف داخلی انتشار کو ہوا دے رہاہے بلکہ ایرانی قوم پر دباؤ ڈالنے کے لیے جھوٹا بیانیہ بھی استعمال کر رہا ہے۔ ایران امریکی مداخلت کو ناقابلِ قبول سمجھتا ہے اور اپنی خودمختاری پر کسی دباؤ کو برداشت نہیں کرے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب کے دوران ایران میں تخریب کاری کے ہولناک منصوبے سے بھی پردہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں ڈھائی سو مساجد اور مذہبی مراکز اور اتنے ہی تعلیمی و سائنسی مراکز کو تباہ اور ختم کرنا شامل تھا۔ بغاوت پر اُکسانے والوں نے بیرون ملک سے اسمگل کیے گئے ہتھیار فسادیوں میں تقسیم کیے۔انہوں نے کہا کہ فتنے کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید ہوئے۔ جن میں بچے، خواتین اور معذور مرد شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو جنگ کی طرف نہیں لے جائیں گے لیکن ملکی اور بین الاقوامی مجرموں کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔


































