
اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا ہے کہ اسلامی ریاست کی جانب سے لڑکیوں کی شادی کے لیے عمر کی کم از کم کوئی حد مقرر کرنا اسلام کے خلاف نہیں۔چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (سی ایم آر اے) 1929 کے تحت لڑکی کی شادی کیلئے کم از کم عمر کی حد 16 سال مقرر کرنے سے لڑکیوں کو بنیادی تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں تین رکنی ایف ایس سی بینچ نے فاروق عمر بھوجا کی جانب سے سی ایم آر اے کے سیکشن 4، 5، 6 کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے درخواست مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ جانچ پڑتال کے بعد ہمارا خیال ہے کہ یہ درخواست غلط فہمی پر ہے۔ جن سیکشنز میں شادی کے لیے لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے کم از کم عمر کی حد مقرر کی گئی ہے وہ غیر اسلامی نہیں ہے۔ سی ایم آر اے کے سیکشن 4 کے تحت بچے کی شادی کرنے پر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے جو چھ ماہ تک بڑھ سکتی ہے اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ سیکشن 5 اور 6 کسی بچے کے نکاح کی سزا اور بچوں کی شادی کی اجازت دینے یا فروغ دینے کی سزا کی وضاحت کرتے ہیں۔


































