Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

شادی کے لیے عمر کی کم از کم کوئی حد مقرر کرنا خلاف اسلام نہیں، وفاقی شرعی عدالت

اسلام آباد: وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا ہے کہ اسلامی ریاست کی جانب سے لڑکیوں کی شادی کے لیے عمر کی کم از کم کوئی حد مقرر کرنا اسلام کے خلاف نہیں۔چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (سی ایم آر اے) 1929 کے تحت لڑکی کی شادی کیلئے کم از کم عمر کی حد 16 سال مقرر کرنے سے لڑکیوں کو بنیادی تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں تین رکنی ایف ایس سی بینچ نے فاروق عمر بھوجا کی جانب سے سی ایم آر اے کے سیکشن 4، 5، 6 کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے درخواست مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ جانچ پڑتال کے بعد ہمارا خیال ہے کہ یہ درخواست غلط فہمی پر ہے۔ جن سیکشنز میں شادی کے لیے لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کے لیے کم از کم عمر کی حد مقرر کی گئی ہے وہ غیر اسلامی نہیں ہے۔ سی ایم آر اے کے سیکشن 4 کے تحت بچے کی شادی کرنے پر قید کی سزا تجویز کی گئی ہے جو چھ ماہ تک بڑھ سکتی ہے اور 50 ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے جبکہ سیکشن 5 اور 6 کسی بچے کے نکاح کی سزا اور بچوں کی شادی کی اجازت دینے یا فروغ دینے کی سزا کی وضاحت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular