Thu Oct 15, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

امریکی اور چینی صدور کی تین گھنٹے طویل ورچوئل ملاقات، بےنتیجہ اور مایوس کن اختتام

واشنگٹن / بیجنگ: امریکی صدر جو بائیڈن اور چینی صدر شی جن پنگ کی پہلی ملاقات ’’ورچوئل‘‘ ہوئی تاہم 3 گھنٹوں سے زائد عرصے پر محیط گفتگو میں دھمکیوں اور ایک دوسرے پر دباؤ کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ دونوں صدور کی گفتگو میں زیادہ وقت شکوے شکایات اور دھمکیوں میں گزرنے کے باعث یہ اجلاس بے نتیجہ ثابت ہوا۔ دوران گفتگو امریکی صدر جوبائیڈن نے چین کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے عالمی قوانین کی پاسداری کرنا ہر ملک کی ذمہ داری ہے اور انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ جواب میں چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا پر تائیوان میں مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چین امریکا کو تائیوان پر اشتعال انگیزی کا جواب دے گا اور امریکا چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے۔ دونوں رہنماؤں نے شمالی کوریا، افغانستان، ایران، توانائی کی عالمی منڈیوں، تجارت، مسابقت، آب و ہوا، فوجی مسائل، وبائی امراض اور دیگر شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تاہم اکثر پر دونوں متفق نہیں ہوسکے۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات کے دوران صدر شی جن پنگ نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی قیادت چین سے متعلق اپنی پالیسی کو عقلی اور عملی راستے پر واپس لانے کے لیے اقدامات کرے گی۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر جوبائیڈن نے بھی تنازع سے بچنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے کہ مقابلے اور مسابقت کی فضا ارادی اور غیر ارادی طور پر تنازع کی طرف نہ جائے.

مزید پڑھیے

Most Popular