Wed Oct 14, 2026

اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی امریکی امیگریشن حکام کا ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر کے گھر چھاپہ ریاض ایئرپورٹ کی بندش میں 5 روز کی توسیع، نوٹم جاری

روزانہ کی خبریں

جدید اسلامی تہذیب کا قیام شیعہ سنی اتحاد کے بغیر ممکن نہیں
رہبر معظم کے خطاب سے اقتباس

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے رسول اکرم ص اور امام جعفر صادق ع کی ولادت نیز ہفتہ وحدت کی مناسبت سے بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء اور اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے پیغمبر اکرم ص کی سیرت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریوں کے بارے میں چند اہم نکات بیان کئے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے "انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر مشتمل دین مبین اسلام کی جامعیت کی وضاحت اور ترویج” اور "اتحاد بین المسلمین کے فروغ” کو امت مسلمہ کی دو اہم ذمہ داریاں قرار دیا اور کہا: "وحدت اسلامی ایک اصولی چیز اور قرآنی فریضہ ہے اور جدید اسلامی تہذیب و تمدن کے قیام جیسا عظیم اور مقدس ہدف شیعہ سنی اتحاد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔”
 
ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے دین مبین اسلام کی جامعیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "سیاسی مادی قوتوں نے ہمیشہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام ایک جامع دین نہیں ہے نیز اس کے پاس انسانی زندگی کے تمام پہلووں کیلئے مناسب منصوبہ بھی نہیں پایا جاتا بلکہ (دین اسلام) فردی عمل اور قلبی عقیدے تک محدود ہے۔ انہوں نے اپنے لکھاریوں اور محققین کی زبانی اس نظریے کا بھرپور پرچار کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ دین اسلام تہذیب و تمدن سازی، معاشرے کی مدیریت، اقتصاد، طاقت اور دولت کی تقسیم، جنگ اور امن، اندرونی اور عالمی سیاست، عدل کا قیام اور ظلم اور شرپسند عناصر کے مقابلے جیسے اہم ایشوز کے بارے میں نہ تو نظریہ فراہم کرتا ہے اور نہ ہی عملی میدان میں کوئی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔”
 
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی متون واضح طور پر اسلام کے بارے میں ایسے تاثر کی نفی کرتے ہیں، مزید کہا: "دین اسلام انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر مشتمل ہے۔ دل کی گہرائیوں اور عبادت سے متعلق امور سے لے کر سیاسی، اقتصادی، سماجی، سکیورٹی اور بین الاقوامی مسائل اس میں شامل ہیں۔ جو شخص اس بات کا منکر ہے اس نے یقیناً قرآن کریم کی متعدد واضح آیات پر توجہ نہیں دی۔” آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سماجی امور اور تہذیب و تمدن سازی جیسی اہم ذمہ داری پر اسلام کی تاکید کو حاکمیت کی جانب اسلام کی توجہ قرار دیا اور کہا: "اسلام میں سماجی نظم و نسق کا مطالبہ حکومتی امور اور امام کے تعین کے بغیر ممکن نہیں اور قرآن کریم میں بھی انبیاء علیہم السلام کو امام یعنی معاشرے کے سربراہ اور کمانڈر کا عنوان دیا گیا ہے۔”
 
ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے اتحاد بین المسلمین کو یقینی فریضہ اور قرآنی حکم قرار دیتے ہوئے کہا: "وحدت اسلامی ایک اصولی بات ہے اور کچھ خاص حالات کے تحت ایک عارضی حکمت عملی نہیں ہے۔ باہمی اتحاد مسلمانوں کی طاقت میں اضافے کا باعث بنتا ہے تاکہ اس طرح وہ غیر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی فوقیت اور برتری کے حامل ہو سکیں۔” امام خامنہ ای نے مزید کہا: "آج شیعہ اور سنی کی اصطلاحات امریکہ کے سیاسی کلچر میں بھی داخل ہو چکی ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اصل اسلام کے ہی مخالف اور دشمن ہیں۔” آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کو اتحاد بین المسلمین کا حقیقی معیار قرار دیا اور کہا: "مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا حقیقی معیار مسئلہ فلسطین ہے۔ جس قدر فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی کیلئے سنجیدگی کا اظہار کیا جائے گا اسی قدر اتحاد بین المسلمین بھی مضبوط ہوتا جائے گا۔”

مزید پڑھیے

Most Popular