
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے محفوظ فیصلہ سنادیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی ائی نے اپنے انتخابات پارٹی آئین کے مطابق نہیں کروائے، پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ پانچ رکنی بینچ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیا۔ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کروانے میں ناکام رہی، جس کی بنیاد پر تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لے رہے ہیں اور اُس کو اب بلے کا نشان نہیں ملے گا۔
تحریک انصاف کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن کو ریگولیٹ کرنا الیکشن کمیشن کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پر ہمارے تحفظات ہیں، آئین کی کونسی شق کی خلاف ورزی کی ہے، الیکشن کمیشن نے ہمارا انتخابی نشان واپس لینے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صرف ہماری پارٹی کا انٹرا پارٹی الیکشن دیکھا گیا، باقی پارٹیوں کو چھوڑ دیا گیا۔ بیرسٹر گوہر نے عندیہ دیا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چلینج کیا جائے گا۔


































